(میں اک نادان لڑکی تھی) محبت نے کیوں مجھے اپنا بنا لیا
Poet: MARIA RIAZ GHOURI By: MARIA GHOURI, HAROONABADمیں محبت کی دنیا سے دور رہتی تھی
نادانی کے شوخ عالم میں جیتی تھی
پرندوں کا جوڑا دیکھ کر ہنس کر اڑا دیتی تھی
تیتلی کو پکڑ کر گھنٹوں مٹھی میں بند رکھتی تھی
گلاب کے پھول کو شاخ سے جدا کر کے پتی پتی بکھیر کر ہوا میں ملاتی تھی
دو دلوں کو اظہار محبت کرتا دیکھ کر افسانے کا نام دیتی تھی
چاند ستاروں کی راتوں کو تارے گن گن کر رات گذارتی تھی
اپنے دل کو محض بچے کی طرح رکھتی تھی
بات بات پہ نئی کہانی گھڑتی تھی
بہت ہنستی تھی
شام کو گلی کی سہیلیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی
اجنبیوں سے بات کرتے ڈرتی تھی
شہزادہ شہزادی کی کہانی کو پڑھ کر تصویروں میں دیکھ کر خوش ہو جاتی تھی
میں اک نادان لڑکی تھی
پتا نا چلا کب محبت نے دل پہ ڈیرا جما لیا
خیالوں کے اجنبی نے اپنا چہرہ دکھا دیا
پتا نا چلا کب تنہائیوں سے طویل گفتگو کا سلسلہ بنا لیا
کب ریت پہ محبت کا گھر سجا لیا
میں تو اک نادان لڑکی تھی
کیوں محبت نے مجھے اپنا بنا لیا؟
کیوں میں نے اس شخص کو نگاہوں میں سما لیا؟
لاحاصل محبت پہ جیون لٹا دیا
پتا نا چلا
مجھے کب محبت نے اپنا بنا لیا
کب میرے دل نے اس اجنبی کی بانہؤں میں سہرا سجا لیا
کب دن گذرے کب رات گذری پتا نا چلا
کب اس اجنبی نے خود کو صبا سا بتا دیا
اک ہوا کے جھو نکے نے وجود میرا ہلا دیا
پتا نا چلا
کب محبت نے اپنا بنا لیا
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






