(ننھے شہیدوں کے نام)
Poet: Hakeem Irshad Ahmad By: Hakeem Irshad Ahmad, Sahiwalننھے شہیدوں کے لہو کی سوغات تو دیکھو
شہر خموشاں میں پھولوں کی بارات تو دیکھو
حورو غلماں اللہ کی طرف سے نذرانے ہونگے
میزبان کی طرف سے مہمانوں کی مدارات تو دیکھو
صبح ِد م کِھلنے والے شام سے پہلے مرجھا گئے
روشن صبح کی لہو رنگ آج رات تو دیکھو
خونِ جگر سے رنگین پرہن میں لپٹے ہوئے پھول
سر جھکائے ہاتھ باندھے نباتات و جمادات تو دیکھو
ڈال ڈال پہ کیا گذ ری جب کلیا ں ٹوٹی ہونگی
مہلت نہ ملی پھول ہونے کی کلیوں کی حیات تو دیکھو
بے قصور تڑپتی ہوئی لاشوں کو دیکھ دیکھ
فرشتوں کی سرِ عرش صدائے ہیہات ہیہات تو دیکھو
بدنامی ِدیں میں کوئی سر فہرست بد نام ہوئے
سینچی لہو سے شہیدوں نے وطن کی نباتات تو دیکھو
معاذ او ر معوذ کی آج یاد تازہ ہو گئی
خون کی تلواروں سے لرزہ بر اندام لات و منات تو دیکھو
پاک وطن کے ساغر میں شامل پھولوں کا لہو بھی کر لو
آغوش مادر میں ذرا زبانِ گل کی بات تو دیکھو
سفاکی ءِ انسان سے درندے بھی شرمندہ ہیں
ظلم کے طوفان بے ہنگم سے پھیلے لمحات تو دیکھو
جاگ مسلماں ساری رنجشوں کو بُھلا کے ایک ہو جا
زبان خاموش سے کچھ کہتے ہوئے ڈال اور پات تو دیکھو
تب و تاب جاوید پرندوں کی شکل میں
تہے عرش نشین شہید وں کی ممات تو دیکھو
قلبِ جاں سوزُ سے ہے حیات اُمم رقم طراز
خون شہید میں چُھپے قلم اور دوات تو دیکھو
شہید کے ہر قطرہ خون کی مرہون منت شمع ِ دین
ارشاد عرض و سماں پہ خون شہید کی کرامات تو دیکھو
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






