یہ کڑی کھلتی تو زنجیر ادھوری رہتی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا یہ کڑی کھلتی تو زنجیر ادھوری رہتی
آہ سے ضبط کی تاثیر ادھوری رہتی
وہ تو کہے کہ ہوئیں نم مری آنکھیں ورنہ
بولتی رہتی تو تقدیر ادھوری رہتی
دیکھ لیتے جو اسے تاج محل کے معمار
سو جتن کرتے پہ تعمیر ادھوری رہتی
وہ تو اچھا ہوا کوئی بھی مرے ساتھ نہ تھا
کوئی بھی ہوتا تو تصویر ادھوری رہتی
دستخط کردئے اصغر نے لہو سے ورنہ
داستانِ غمِ شبیر ادھوری رہتی
کسی رانجھے نے پیا زہر محبت وشمہ
ورنہ کیا ہوتا کوئی ہیر ادھوری رہتی
More Life Poetry






