Poetries by Abdul Waheed
میری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کے روئے میری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کے روئے
مجھے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے
کوئی ایسا اہلِ دل ہو کہ فسانہ محبت
میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے
میری آرزو کی دنیا دلِ ناتواں کی حسرت
جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے
تری بے وفائیوں پر، تری کج ادائیوں پر
کبھی سر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے
جو سنائی انجمن میں شبِ غم کی آبِ بیتی
کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے Abdul Waheed(Muskan)
مجھے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے
کوئی ایسا اہلِ دل ہو کہ فسانہ محبت
میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے
میری آرزو کی دنیا دلِ ناتواں کی حسرت
جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے
تری بے وفائیوں پر، تری کج ادائیوں پر
کبھی سر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے
جو سنائی انجمن میں شبِ غم کی آبِ بیتی
کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے Abdul Waheed(Muskan)
اُداسی ساحل اداس تھا کہ
سمندر اداس تھا
لگتا تھا جیسے سارا منظر اداس تھا
لوٹی فلک سے تو بڑی دل گیر تھی دعا
اک خواب ٹوٹنے پر مقدر اداس تھا
پھر چاند کو گلے لگا کر،رو پڑی گھٹا
ایسا لگا طوفان بھی فلک پر اداس تھا
میری تبائیوں پراسے بھی ملال تھا
آئینہ خود کا توڑ کر پتھر بھی اداس تھا
جو شخصشہر میں سب ہی کو ہنسی بانٹتا رھا
یہ دل اسی کی بزم میں جا کر اداس تھا
کرو گے یاد اک دن تم محبت کے زمانے کو
چلے جائیں گے ہم جس دن کبھی نہ واپس آنے کو
کسی محفل میں چھیڑے گا ہمارا زکر جب کوئی
چلے جاؤ گے تنہائی میں تم آنسو بہانے کو
گھٹائیں پربتوں پر جھک کے جب اُلفت بہائیں گی
ترس جاؤ گے تم بھی تب ہمارے پاس آنے کو
سفر میں اپنے حصے کی مسافت یاد رہتی ہے
کہیں آباد ہونے پر بھی ہجرت یاد رہتی ہے
وہ چاہے دوستی ہو، دشمنی ہو یا محبت ہو
یہاں ہر حال میں اپنی ضرورت یاد رہتی ہے
کسی صحرا کو پیاسا چھوڑ جاتا ہے کبھی دریا
کبھی پیاسے کو دریا کی سخاوت یاد رہتی ہے
یہ سچ ہے پیار پہلا ہی بسا رہتا ہے سانسوں میں
یہ سچ ہے عمر بھر پہلی محبت یاد ریتی ہے Abdul Waheed(Muskan)
سمندر اداس تھا
لگتا تھا جیسے سارا منظر اداس تھا
لوٹی فلک سے تو بڑی دل گیر تھی دعا
اک خواب ٹوٹنے پر مقدر اداس تھا
پھر چاند کو گلے لگا کر،رو پڑی گھٹا
ایسا لگا طوفان بھی فلک پر اداس تھا
میری تبائیوں پراسے بھی ملال تھا
آئینہ خود کا توڑ کر پتھر بھی اداس تھا
جو شخصشہر میں سب ہی کو ہنسی بانٹتا رھا
یہ دل اسی کی بزم میں جا کر اداس تھا
کرو گے یاد اک دن تم محبت کے زمانے کو
چلے جائیں گے ہم جس دن کبھی نہ واپس آنے کو
کسی محفل میں چھیڑے گا ہمارا زکر جب کوئی
چلے جاؤ گے تنہائی میں تم آنسو بہانے کو
گھٹائیں پربتوں پر جھک کے جب اُلفت بہائیں گی
ترس جاؤ گے تم بھی تب ہمارے پاس آنے کو
سفر میں اپنے حصے کی مسافت یاد رہتی ہے
کہیں آباد ہونے پر بھی ہجرت یاد رہتی ہے
وہ چاہے دوستی ہو، دشمنی ہو یا محبت ہو
یہاں ہر حال میں اپنی ضرورت یاد رہتی ہے
کسی صحرا کو پیاسا چھوڑ جاتا ہے کبھی دریا
کبھی پیاسے کو دریا کی سخاوت یاد رہتی ہے
یہ سچ ہے پیار پہلا ہی بسا رہتا ہے سانسوں میں
یہ سچ ہے عمر بھر پہلی محبت یاد ریتی ہے Abdul Waheed(Muskan)
دید کی تمنائی تری باتوں میں زندگی کا رس
تری آواز میں ہے رعنائی
فون پر بولتی ہوئی محبوب
تو ابھی سامنے نہیں آئی
دل تجھے دیکھنے کو کہتا ہے
دل تری دید کا تمنائی
اک طرف عاشقی سے ہم مجبور
اک طرف ہم کو خوفِ رسوائی
صبر کا حوصلہ نہیں باقی
حُسن، بیکار، جان زیبائی
ہم نے مانا،تو خوبصورت ہے
دیکھ ہمکو تری ضرورت ہے Abdul Waheed(Muskan)
تری آواز میں ہے رعنائی
فون پر بولتی ہوئی محبوب
تو ابھی سامنے نہیں آئی
دل تجھے دیکھنے کو کہتا ہے
دل تری دید کا تمنائی
اک طرف عاشقی سے ہم مجبور
اک طرف ہم کو خوفِ رسوائی
صبر کا حوصلہ نہیں باقی
حُسن، بیکار، جان زیبائی
ہم نے مانا،تو خوبصورت ہے
دیکھ ہمکو تری ضرورت ہے Abdul Waheed(Muskan)
جاناں اچھے لگتے ہو چلتے چلتے رکتے ہو
رکتے رکتے ہنستے ہو
ہنستے ہنستے روتے ہو
کن سوچوں میں ہوتے ہو
جب سائے سے ڈرتے ہو
شمع بن کر جلتے ہو
فون پہ جب تم لڑتے ہو
جب راضی ہو جاتے ہو
چین سے جب سو جاتے ہو
پھر جب، سپنے بنتے ہو
اور جب کلیاں چنتے ہو
کاغذ پر، جب لکھتے ہو
جب تم شاعر دکھتے ہو
چھوٹے بچے لگتے ہو
جاناں اچھے لگتے ہو Abdul Waheed(Muskan)
رکتے رکتے ہنستے ہو
ہنستے ہنستے روتے ہو
کن سوچوں میں ہوتے ہو
جب سائے سے ڈرتے ہو
شمع بن کر جلتے ہو
فون پہ جب تم لڑتے ہو
جب راضی ہو جاتے ہو
چین سے جب سو جاتے ہو
پھر جب، سپنے بنتے ہو
اور جب کلیاں چنتے ہو
کاغذ پر، جب لکھتے ہو
جب تم شاعر دکھتے ہو
چھوٹے بچے لگتے ہو
جاناں اچھے لگتے ہو Abdul Waheed(Muskan)
تیری اُلجھن کا حل یہ سوچا ہے تیری اُلجھن کا حل یہ سوچا ہے
اب بچھڑ جائیں ہم تو اچھا ہے
یہ محبت بھی ایسا ریشم ہے
ہاتھ ڈالا ہے جس نے اُلجھا ہے
بات بے بات روٹھنے والے
وقت بے وقت تجھ کو سوچا ہے
ہجر کی رات ہر ستارے پر
ہم نے تیرا ہی نام لکھا ہے
ہم نے سوچا ہے رات دن تم کو
ہم نے ترا ہی خواب دیکھا ہے
اور سب کچھ ملا ہے بن مانگے
ایک تم کو خدا سے مانگا ہے Abdul Waheed(Muskan)
اب بچھڑ جائیں ہم تو اچھا ہے
یہ محبت بھی ایسا ریشم ہے
ہاتھ ڈالا ہے جس نے اُلجھا ہے
بات بے بات روٹھنے والے
وقت بے وقت تجھ کو سوچا ہے
ہجر کی رات ہر ستارے پر
ہم نے تیرا ہی نام لکھا ہے
ہم نے سوچا ہے رات دن تم کو
ہم نے ترا ہی خواب دیکھا ہے
اور سب کچھ ملا ہے بن مانگے
ایک تم کو خدا سے مانگا ہے Abdul Waheed(Muskan)
کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں جب ہجر کی آگ جلاتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
آنکھوں میں راکھ سجاتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
موسم کے رنگ بدلتے ہیں، لہرا کے جھونکے آتے ہیں
شاخوں سے بور اُٹھاتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
یادوں کی گرم ہواؤں سے، آنکھو کی کلیاں جلتی ہیں
جب آنسو درد بہاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
بے درد ہوائیں سہ سہکر، سورج کے ڈھلتے سایوں میں
جب پنچھی لوٹ کے آتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب لوگ جہاں بھر کے قصوں میں دم بھر کا موقع ملتے ہی
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
یہ عشق محبت کچھ بھی نہیں، فرصت کی کارستانی ہے
جو لوگ مجھے سمجھاتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب کالے بادل گھِر آئیں اور بارش زور کی ہوتی ہو
دروازے شور مچاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب آنگن مین خاموشی اپنے ہونٹ پہ اُنگلی رکھتی ہے
سناٹے جب در آتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب سرد ہوا کا بستر ہو اور یاد سے اُس کی لپٹے ہوں
تب نغمہ سا لہراتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب اوس کے قطرے پھولوں پر کچھ موتی سے بن جاتے ہیں
تب ہم بھی اشک بہاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
ہم یاد میں بس گُم رہتے ہیں، اور چاند کو تکتے رہتے ہیں
تاروں سے بات چھپاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں Abdul Waheed(Muskan)
آنکھوں میں راکھ سجاتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
موسم کے رنگ بدلتے ہیں، لہرا کے جھونکے آتے ہیں
شاخوں سے بور اُٹھاتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
یادوں کی گرم ہواؤں سے، آنکھو کی کلیاں جلتی ہیں
جب آنسو درد بہاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
بے درد ہوائیں سہ سہکر، سورج کے ڈھلتے سایوں میں
جب پنچھی لوٹ کے آتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب لوگ جہاں بھر کے قصوں میں دم بھر کا موقع ملتے ہی
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
یہ عشق محبت کچھ بھی نہیں، فرصت کی کارستانی ہے
جو لوگ مجھے سمجھاتے ہیں،کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب کالے بادل گھِر آئیں اور بارش زور کی ہوتی ہو
دروازے شور مچاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب آنگن مین خاموشی اپنے ہونٹ پہ اُنگلی رکھتی ہے
سناٹے جب در آتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب سرد ہوا کا بستر ہو اور یاد سے اُس کی لپٹے ہوں
تب نغمہ سا لہراتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جب اوس کے قطرے پھولوں پر کچھ موتی سے بن جاتے ہیں
تب ہم بھی اشک بہاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
ہم یاد میں بس گُم رہتے ہیں، اور چاند کو تکتے رہتے ہیں
تاروں سے بات چھپاتے ہیں، کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں Abdul Waheed(Muskan)
راز کی باتیں ہر لفظ کو کاغذ پہ اُتارا نہیں جاتا
ہر نام سرِعام پکارا نہیں جاتا
ہوتی ہیں محبت میں کئی راز کی باتیں
ویسے ہی اس کھیل میں ہارا نہیں جاتا
آنکھوں میں لگایا نہیں جاتا یونہی کاجل
زلفوں کو بلاوجہ یونہی سنوارا نہیں جاتا
ہر شخص کو طوفان بچانے نہیں آتے
ہر ناؤ کے ہمراہ کنارہ نہیں جاتا
تب تک نہیں کھلتے کبھی اسرارِ محبت
جب تک کوئی اس راہ میں مارا نہیں جاتا Abdul Waheed(Muskan)
ہر نام سرِعام پکارا نہیں جاتا
ہوتی ہیں محبت میں کئی راز کی باتیں
ویسے ہی اس کھیل میں ہارا نہیں جاتا
آنکھوں میں لگایا نہیں جاتا یونہی کاجل
زلفوں کو بلاوجہ یونہی سنوارا نہیں جاتا
ہر شخص کو طوفان بچانے نہیں آتے
ہر ناؤ کے ہمراہ کنارہ نہیں جاتا
تب تک نہیں کھلتے کبھی اسرارِ محبت
جب تک کوئی اس راہ میں مارا نہیں جاتا Abdul Waheed(Muskan)
محبت محبت ہو اوس، محبت اگن ہو
محبت کی روح کو، محبت بدن ہو
یہ ماتھے کی بندیا
یہ ہاتھوں کی مہندی
یہ پیروں کی پائل
محبت بنادوں
کہیں سے میں لاکے یہ ہونٹوں کی لالی
اور آنکھوں کا کاجل
محبت بنادوں
محبت کا دل ہو،محبت کی سانسیں
محبت کا دن ہو، محبت کی راتیں
محبت کے لب ہوں محبت کے انداز
محبت کے ڈھب ہوں
محبت ملے تو
محبت سے کہدوں
محبت ہے، جاناں
محبت میں رہتے ہیں اکثر ہی گُم سے
محبت کے دے دو
محبت سے سب کچھ
میں دونوں جہاں کو محبت بنادوں
محبت کو لاکے محبت دکھادوں
میں تم پہ محبت محبت لٹآ دوں
میں تم کومحبت محبت بنادوں
پر اتنی محبت کو
تم کیا کرو گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ Abdul Waheed(Muskan)
محبت کی روح کو، محبت بدن ہو
یہ ماتھے کی بندیا
یہ ہاتھوں کی مہندی
یہ پیروں کی پائل
محبت بنادوں
کہیں سے میں لاکے یہ ہونٹوں کی لالی
اور آنکھوں کا کاجل
محبت بنادوں
محبت کا دل ہو،محبت کی سانسیں
محبت کا دن ہو، محبت کی راتیں
محبت کے لب ہوں محبت کے انداز
محبت کے ڈھب ہوں
محبت ملے تو
محبت سے کہدوں
محبت ہے، جاناں
محبت میں رہتے ہیں اکثر ہی گُم سے
محبت کے دے دو
محبت سے سب کچھ
میں دونوں جہاں کو محبت بنادوں
محبت کو لاکے محبت دکھادوں
میں تم پہ محبت محبت لٹآ دوں
میں تم کومحبت محبت بنادوں
پر اتنی محبت کو
تم کیا کرو گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ Abdul Waheed(Muskan)
مسکان کہیں چاند راہوں میں کھو گیا، کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی
میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا،مری رات کیسے چمک گئی
کبھی اُجلا اُجلا سا نام ہوں، کبھی کھویا کھویا کلام ہوں
مجھے صبح کرنوں سے بھر گئی مجھے شام پھول سے ڈھک گئی
تجھے بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں
تری یاد شاخِ گلاب ہے جو ہوا چلی تو لچک اُٹھی
کبھی ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے، نہ کبھی تمہاری جھجک گئی
مری داستان کا عروج تھا تری نرم پلکوں کی چھاؤں میں
مرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تری آنکھ کیسے جھپک گئی Abdul Waheed(Muskan)
میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا،مری رات کیسے چمک گئی
کبھی اُجلا اُجلا سا نام ہوں، کبھی کھویا کھویا کلام ہوں
مجھے صبح کرنوں سے بھر گئی مجھے شام پھول سے ڈھک گئی
تجھے بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں
تری یاد شاخِ گلاب ہے جو ہوا چلی تو لچک اُٹھی
کبھی ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے، نہ کبھی تمہاری جھجک گئی
مری داستان کا عروج تھا تری نرم پلکوں کی چھاؤں میں
مرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تری آنکھ کیسے جھپک گئی Abdul Waheed(Muskan)
کاش یہ لمحے ٹہر جاہیں زرا سبز مدھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک
سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک
بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن
سلوٹے ملبوس پر، آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہوا
گرمی رخسار سے دہکی ہوئی ٹھنڈی ہوا
نرم زلفوں سے ملائم اُنگلیوں کی چھیڑ چھاڑ
سُرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس
ریشمی بانہوں میں چوڑی کی کبھی مدھم کھنک
شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات
دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی تھی اک صدا
کانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اک دعا
کاش کاش! یہ لمحے ٹھر جاہیں ٹھر جاہیں زرا Abdul Waheed(Muskan)
سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک
بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن
سلوٹے ملبوس پر، آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہوا
گرمی رخسار سے دہکی ہوئی ٹھنڈی ہوا
نرم زلفوں سے ملائم اُنگلیوں کی چھیڑ چھاڑ
سُرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس
ریشمی بانہوں میں چوڑی کی کبھی مدھم کھنک
شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات
دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی تھی اک صدا
کانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اک دعا
کاش کاش! یہ لمحے ٹھر جاہیں ٹھر جاہیں زرا Abdul Waheed(Muskan)
غم اس غم کو تو اب دل میں سمونا ہی پڑے گا
آنکھیں جو بھر آئیں ہیں تو رونا ہی پڑے گا
وہ شخص مرادوں سے جسے پایا تھا ہم نے
محسوس یہ ہوتا ہے کہ کھونا ہی پڑے گا
اب جی کو جلاتے ہوئے اک عمر ہوئی ہے
اب ہم کو تیری طرح کا ہونا ہی پڑے گا
یہ ہجر کا موسم کہیں بےکار نہ ہو جائے
باقی جو بچا ہے اسے کھونا ہی پڑے گا
اس کشت ملامت میں مری جان زرا دیکھ
یہ تخمِ محبت ہے کہ بونا ہی پڑے گا Abdul Waheed(Muskan)
آنکھیں جو بھر آئیں ہیں تو رونا ہی پڑے گا
وہ شخص مرادوں سے جسے پایا تھا ہم نے
محسوس یہ ہوتا ہے کہ کھونا ہی پڑے گا
اب جی کو جلاتے ہوئے اک عمر ہوئی ہے
اب ہم کو تیری طرح کا ہونا ہی پڑے گا
یہ ہجر کا موسم کہیں بےکار نہ ہو جائے
باقی جو بچا ہے اسے کھونا ہی پڑے گا
اس کشت ملامت میں مری جان زرا دیکھ
یہ تخمِ محبت ہے کہ بونا ہی پڑے گا Abdul Waheed(Muskan)
ستارے مل نہیں سکتے عجب دن تھے محبت کے
عجب دن تھے رفاقت کے
کبھی گر یاد آجائیں تو
پلکوں پر ستارے جھلملاتے ہیں
کسی کی یاد میں راتوں کو جاگنا معمول تھا اپنا
کبھی گر نیند آجاتی
تو ہم یہ سوچ لیتے تھے
ابھی تو وہ ہمارے واسطے رویا نہیں ہو گا
ابھی سویا نہیں ہو گا
ابھی ہم بھی نہیں روتے
ابھی ہم بھی نہیں سوتے
سو پھر ہم جاگتے تھے اور اُس کو یاد کرتے تھے
اکیلے بیٹھ کر ویرانِ دل آباد کرتے تھے
ہمارے سامنے تاروں کے جھرمٹ میں اکیلا چاند ہوتا تھا
جو اُس کے حسن گے آگے بہت ہی ماند ہوتا تھا
فلکپر رقص کرتے ان گنت روشن ستاروں کو
جو ہم ترتیب دیتے تھےتو اُس کا نام بنتا تھا
ہم اگلے روز جب ملتے
تو گزری رات کی ہر بےکلی کا زکر کرتے تھے
ہر اک قصہ سناتے تھے
کہاں، کس وقت، کس طرح سے دل دھڑکا بتاتے تھے
میں جب کہتا۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ جاناں
آج تو میں رات کو اک پل نہیں سویا
تو وہ خاموش رہتی تھی
پر اُس کی نیند میں ڈوبی ہوئی دو جھیل سی آنکھیں
اچانک بول اُٹھتی تھی
میں جب اس کو بتاتا تھا
کہ میں نے رات کو روشن ستاروں میں تمہارا نام دیکھا ہے
تو وہ کہتی “وحید تم جھوٹ کہتے ہو“
ستارے میں نے دیکھے تھے
اور ان روشن ستاروں میں تمہارا نام دیکھا تھا
عجیب معصوم سی لڑکی تھی
مجھے کہتی تھی “لگتا ہے اب اپنے ستارے مل ہی جائیں گے“
مگر اس کو خبر کیا تھی، کنارے مل نہیں سکتے
محبت کی کہانی میں، محبت کرنے والوں کے
ستارے مل نہیں سکتے
ہاں ستارے مل نہیں سکتے Abdul Waheed(Muskan)
عجب دن تھے رفاقت کے
کبھی گر یاد آجائیں تو
پلکوں پر ستارے جھلملاتے ہیں
کسی کی یاد میں راتوں کو جاگنا معمول تھا اپنا
کبھی گر نیند آجاتی
تو ہم یہ سوچ لیتے تھے
ابھی تو وہ ہمارے واسطے رویا نہیں ہو گا
ابھی سویا نہیں ہو گا
ابھی ہم بھی نہیں روتے
ابھی ہم بھی نہیں سوتے
سو پھر ہم جاگتے تھے اور اُس کو یاد کرتے تھے
اکیلے بیٹھ کر ویرانِ دل آباد کرتے تھے
ہمارے سامنے تاروں کے جھرمٹ میں اکیلا چاند ہوتا تھا
جو اُس کے حسن گے آگے بہت ہی ماند ہوتا تھا
فلکپر رقص کرتے ان گنت روشن ستاروں کو
جو ہم ترتیب دیتے تھےتو اُس کا نام بنتا تھا
ہم اگلے روز جب ملتے
تو گزری رات کی ہر بےکلی کا زکر کرتے تھے
ہر اک قصہ سناتے تھے
کہاں، کس وقت، کس طرح سے دل دھڑکا بتاتے تھے
میں جب کہتا۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ جاناں
آج تو میں رات کو اک پل نہیں سویا
تو وہ خاموش رہتی تھی
پر اُس کی نیند میں ڈوبی ہوئی دو جھیل سی آنکھیں
اچانک بول اُٹھتی تھی
میں جب اس کو بتاتا تھا
کہ میں نے رات کو روشن ستاروں میں تمہارا نام دیکھا ہے
تو وہ کہتی “وحید تم جھوٹ کہتے ہو“
ستارے میں نے دیکھے تھے
اور ان روشن ستاروں میں تمہارا نام دیکھا تھا
عجیب معصوم سی لڑکی تھی
مجھے کہتی تھی “لگتا ہے اب اپنے ستارے مل ہی جائیں گے“
مگر اس کو خبر کیا تھی، کنارے مل نہیں سکتے
محبت کی کہانی میں، محبت کرنے والوں کے
ستارے مل نہیں سکتے
ہاں ستارے مل نہیں سکتے Abdul Waheed(Muskan)
تم آؤ گی سوکھے پیڑوں سے وعدہ کر کےہوا کے پیچھے جاؤ گی
بچھڑ چکے جو پتے ان کو کیسے ڈھونڈ کے لاؤ گی
سوجی آنکھوں کے بارے میں گھر لو فرضی افسانہ
ملنے والوں کو تم کیسے سچی بات بتاؤ گی
دنیا والوں سے ملنے کی خواہش ٹھیک سہی لیکن
عشق کا چلہ کاٹ رہی ہو باہر کیسے آؤ گی
دل میں آنگن میں اب تک اک پیڑ کھڑا ہے یادوں کا
وقت کی آندھی ہار چکی ہے تم کیا اسے گراؤ گی
کہنے کو تو روٹھ گئی ہو اس سے لیکن یاد رہے
آج بھی دیر سے وہ لوٹے گا آج بھی تمہی مناؤ گی
ایک مہینے بعد ملا تو نام بھی وہ میرا بھول گیا
جس نے چلتے وقت کہا تھا “ یاد بہت تم آؤ گی“ Abdul Waheed(Muskan)
بچھڑ چکے جو پتے ان کو کیسے ڈھونڈ کے لاؤ گی
سوجی آنکھوں کے بارے میں گھر لو فرضی افسانہ
ملنے والوں کو تم کیسے سچی بات بتاؤ گی
دنیا والوں سے ملنے کی خواہش ٹھیک سہی لیکن
عشق کا چلہ کاٹ رہی ہو باہر کیسے آؤ گی
دل میں آنگن میں اب تک اک پیڑ کھڑا ہے یادوں کا
وقت کی آندھی ہار چکی ہے تم کیا اسے گراؤ گی
کہنے کو تو روٹھ گئی ہو اس سے لیکن یاد رہے
آج بھی دیر سے وہ لوٹے گا آج بھی تمہی مناؤ گی
ایک مہینے بعد ملا تو نام بھی وہ میرا بھول گیا
جس نے چلتے وقت کہا تھا “ یاد بہت تم آؤ گی“ Abdul Waheed(Muskan)
کبھی خود کو میرے اختیار میں دو تو کبھی خود کو میرے اختیار میں دو تو
میں تیری آنکھوں میں اَن گنت خواب سجاؤں
ترے بازؤں کواپنی زات کا حصہ بناؤں
تیری باتوں میں پیار کی روشنی بھر دوں
ترے قدموں کو انتظار کی رہ گزر پہ چلاؤں
جان کر جو تم نظر چُرالیتے ہو
اس نظر کو میں نظر کا چور بناؤں
ان انگلیوں کو تری زلفوں کا لمس دوں
اپنے ہاتھوں میں ترے ہاتھوں کی لکیر ملاؤں
میری شریکِ حیات بن کر تو میرے ساتھ چلے
میں تیری منزل تیرا ہمنوا کہلاؤں
کبھی خود پر جو تم اپنا حق جتاؤ
تجھے لے کے میں تجھ سے بھی دور چلا جاؤں
کبھی خود کو جو میرے اختیار میں دو تو Abdul Waheed(Muskan)
میں تیری آنکھوں میں اَن گنت خواب سجاؤں
ترے بازؤں کواپنی زات کا حصہ بناؤں
تیری باتوں میں پیار کی روشنی بھر دوں
ترے قدموں کو انتظار کی رہ گزر پہ چلاؤں
جان کر جو تم نظر چُرالیتے ہو
اس نظر کو میں نظر کا چور بناؤں
ان انگلیوں کو تری زلفوں کا لمس دوں
اپنے ہاتھوں میں ترے ہاتھوں کی لکیر ملاؤں
میری شریکِ حیات بن کر تو میرے ساتھ چلے
میں تیری منزل تیرا ہمنوا کہلاؤں
کبھی خود پر جو تم اپنا حق جتاؤ
تجھے لے کے میں تجھ سے بھی دور چلا جاؤں
کبھی خود کو جو میرے اختیار میں دو تو Abdul Waheed(Muskan)
تب یاد بہت تم آتے ہو جب رات کی ناگن ڈستی ہے
نس نس میں زہر اُترتا ہے
جب چاند کی کرنیں تیزی سے
اِس دل کو چیڑ کے آتی ہے
جب آنکھ کے اندر ہی آنسو
زنجیروں میں بندھ جاتے ہیں
سب جزبوں پہ چھا جاتے ہیں
تب یاد بہت تم آتے ہو
جب درد کی جھانجر بجتی ہے
جب رقص غموں کا ہوتا ہے
خوابوں کی تال پہ سارے دکھ
وحشت کے ساز بجاتے ہیں
گاتے ہیں خواہش کی لے میں
مستی میں جھومتے جاتے ہیں
سب جزبوں پر چھا جاتے ہیں
تب یاد بہت تم آتے ہو Abdul Waheed(Muskan)
نس نس میں زہر اُترتا ہے
جب چاند کی کرنیں تیزی سے
اِس دل کو چیڑ کے آتی ہے
جب آنکھ کے اندر ہی آنسو
زنجیروں میں بندھ جاتے ہیں
سب جزبوں پہ چھا جاتے ہیں
تب یاد بہت تم آتے ہو
جب درد کی جھانجر بجتی ہے
جب رقص غموں کا ہوتا ہے
خوابوں کی تال پہ سارے دکھ
وحشت کے ساز بجاتے ہیں
گاتے ہیں خواہش کی لے میں
مستی میں جھومتے جاتے ہیں
سب جزبوں پر چھا جاتے ہیں
تب یاد بہت تم آتے ہو Abdul Waheed(Muskan)