کبھی خود کو میرے اختیار میں دو تو

Poet: Abdul Waheed(Muskan) By: Abdul Waheed(Muskan), Haripur

کبھی خود کو میرے اختیار میں دو تو
میں تیری آنکھوں میں اَن گنت خواب سجاؤں
ترے بازؤں کواپنی زات کا حصہ بناؤں
تیری باتوں میں پیار کی روشنی بھر دوں
ترے قدموں کو انتظار کی رہ گزر پہ چلاؤں
جان کر جو تم نظر چُرالیتے ہو
اس نظر کو میں نظر کا چور بناؤں
ان انگلیوں کو تری زلفوں کا لمس دوں
اپنے ہاتھوں میں ترے ہاتھوں کی لکیر ملاؤں
میری شریکِ حیات بن کر تو میرے ساتھ چلے
میں تیری منزل تیرا ہمنوا کہلاؤں
کبھی خود پر جو تم اپنا حق جتاؤ
تجھے لے کے میں تجھ سے بھی دور چلا جاؤں
کبھی خود کو جو میرے اختیار میں دو تو

Rate it:
Views: 641
09 Jan, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL