Be-Aabroo Hone Lagi Hain Aaj Betiyaan
Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New DelhiBe-Aabroo Hone Lagi Hain Aaj Betiyaan
Kal Tak Thi Jo Sar Ka Taaj Betiyaan
Wehsat Bhare Jahan Mai Ijzat Sambhalna
Ho Gaya Dushwaar Q Beti Ko Paalna
Hai Khouf
Dil Dehal Raha Hai Dekh Kar Manzar
Ladki K Liye Ho Gayi Har Aankh Q Khanzar
Sikha To Nahi Kabhi Ijzat Uchalna
To Phir Hain Q Aaj Sharm-Saar Betiyaan
Be-Aabroo Hone Lagi Hain Aaj Betiyaan
Kal Tak Thi Jo Sar Ka Taaj Betiyaan
Din Ko Ho Ujala Ya Ho Raat Ka Pehra
Lagta Hai Ab To Darr K Ye Hai Kaisa Andhera
Na Jaane Kis Gali Mai Ho Khoufnaak Hawaaein
Shataan Se Bhi Badtar Hai Insaan Ki Nighahein
Iss Rang Badalte Waqt Ka Kon Sa Rang Hai
Kyun Ban Rahi Hain Khokla Samaaj Betiyaan
Be-Aabroo Hone Lagi Hain Aaj Betiyaan
Kal Tak Thi Jo Sar Ka Taaj Betiyaan
Aawaaj Ab Buland Karne Ka Waqt Hai
Darr Liye Bohat Ab Na Darrne Ka Waqt Hai
Mil Julkar Iss Waqt Ka Hai Rukh Badalna
Lo Ab Ye Kasam Humko Hai Saath Mai Chalna
Neelaam Ho Gayi Hai Ijzat Idhar Udhar
Karna Hai Humko Phir Naya Aaghaaz Betiyaan.
Be-Aabroo Hone Lagi Hain Aaj Betiyaan
Kal Tak Thi Jo Sar Ka Taaj Betiyaan
Be-Aabroo Hone Lagi Hain Aaj Betiyaan
Kal Tak Thi Jo Sar Ka Taaj Betiyaan.
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






