Bikay Howay Hain Hum
Poet: Bella By: Sadaf ji, MultanBikay Howay Hain Hum Ishq K Bazar Main
Jahan Jafa Hay Aj Kal Iqtidar Main
Kahan Milay Gi Meri Wafa Ki Koi Kimat
In Mufad Saz Logoon K Shuaar Main
Tanhaiyan, Ahain Or Anso Kitnay Hi
Lagay Hain Ik Lafaz Wafa K Singhar Main
Kaha Tum Nay Jab Say Baymol Hay Wafa Tumhari
Bikhar Giya Sab Khuch, Khuch Na Raha Ikhtiyar Main
Shamian, Ratain Or Din Guzartay Hian Waisay Hi
Par Kahan Kattay Hain Ab Ye Qarar Main
Har Koi Khud Ko Samjhta Hay Sarapa Muhbbat Yahan
Nafratain Milti Hain, Muhbbatoon K Andaz Main
Tot Para Zamana Ki Jurm Ki Padash Main
Jurm Hay K Pagal Hun Mian Teray Piyar Main
Jaam Ka Daur Ik Or Ho Jae O Meray Saqi
Maza Ata Hay Teri Nighaoon K Khumar Main
Baykhudi Main Hay Parha Tujh Ko Tasbeehoon Par
Daykhi Hay Teri Sorat Sajdoon K Andaz Main
Pooj Rahi Hun Tujhe Bitha K Apnay Dil Main
Saja Rahkha Hay Pather Hum Nay Kanch K Diyar Main
Kaisay Na Maroon Pal Pal Teri Judai Main
Rooh Ban K Utra Hay Tu Meray Dil-E-Zaar Main
Meri Kul Kainaat Ka Meedar Hay Tu
Bam-E-Lab Ata Hay Tera Naam Har Phukar Main
Ye Nahi Kehti K Ho Gay Ho Baywafa Tum
Ghiray Ho Gay Kai Majboriyon K Hissar Main
Hum Say Bichrnay Ka Zara To Gum Hota Tumhe B
Baray Khush Dhiktay Ho Mehfil-E-Agiyaar Main
Dil Hay K Dharaknay Ko Razi Hi Nahi Bella
Dua Do K So Jain Hum Maut K Gaar Main
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے







