Chalo Aj Baat Kertay Hain
Poet: Rqabutt By: Rqabutt, FsdChalo Aj Baat Kertay Hain
Guzray Hoay Kal Ki
Chalo Aj Yad Kertay Hain
Yadain Bikhray Hoay Kal Ki
Is Sey Pehlay K Waqt Guzar Jaay
Is Sey Pehlay K Sham Ho Jaay
Is Sey Pehlay K Shaam Ki Tariki
Hamaray Dilon Per Chaa Jaay
Chalo Aj Iqrar Kertay Hain
Chalo Aj Baat Kertay Hain
Tumhari Be Dharak Hansi Sey
Maira Dil Dharak Jata Tha
Ik Anjana Sa Khof
Mairi Rooh Main Utar Jata Tha
Tumhari Aankhon Ki Chamak
Ik Nai Dastan Sunati Thi
Tumhari Adhori Si Batain
Mujhay Bohat Stati Thin
Chalo Aj Iqrar Kertay Hain
Chalo Aj Baat Kartay Hain
Na Main Badli Na Waqt Badla
Jaga B Aaj Wohi Hai
Janay Kuin Aaj Hamara Sath
Faqt Ik Majbori Hai
Wohi Manzir Wohi Yadain
Wohi Log Wohi Batain
Phir B Janay Kuin Hamaray Beech
Sadion Ki Dori Hai
Tumhain Socha Tumhain Samjha
Tumhain Jana Apna Hi Saya
Phir Janay Kab Kaisay
Palat Gai Waqt Ki Kaya
Phir Tumhara Pas-E-Parda
Chehra Mairay Samnay Aya
Maira Anjana Khof
Mairay Gam Main Badal Aya
Tumhara Wajod Mairay
Samnay Yon Anay Laga
K Mairi Palkon Ki Nami Ko
Anso'on Main Rulanay Laga
Chalo Aj Iqrar Kertay Hain
Chalo Aj Baat Kartay Hain
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






