Dar Lagta Hai
Poet: JOKER By: Aaron, KarachiHalat-E-Sheher Ke Guman Se Dar Lagta Hai
Aaj Insan Ko Insan Se Dar Lagta Hai
Khaak Main Mil Gyi Karachi Ki Haseen Roshniyan
Ab Tou Kud Apni Hi Pechan Se Dar Lagta Hai
Sheher Ka Sheher Pareshan Hai
Afsurdaa Hai Tazkara-E-Kaar-E-Shaitan Se Dar Lagta Hai
Jane Kab Kon Kise Maar Day Kafir Keha Kar
Ab Musalman Ko Musalman Se Dar Lagta Hai
Kon Aye Ga Humay Pyar Sikhane Ya Rab
Wehashat-E-Hazrat-E-Insan Se Dar Lagta Hai
Ab To Har Ek Adākār Se Dar Lagtā Hai
Mujh Ko Dushman Se Nahīñ Yaar Se Dar Lagtā Hai
Kaise Dushman Ke Muqābil Vo Thahar Pā.Egā
Jis Ko Tuutī Huī Talvār Se Dar Lagtā Hai
Vo Jo Pāzeb Kī Jhankār Kā Shaidā.Ī Ho
Us Ko Talvār Kī Jhankār Se Dar Lagtā Hai
Mujh Ko Bāloñ Kī Safedī Ne ḳhabar-Dār Kiyā
Zindagī Ab Tirī Raftār Se Dar Lagtā Hai
Kar Deñ Maslūb Unheñ Laakh Zamāne Vaale
Haq-Parastoñ Ko Kahāñ Daar Se Dar Lagtā Hai
Vo Kisī Tarah Bhī Tairāk Nahīñ Ho Saktā
Duur Se Hī Jise Mañjdhār Se Dar Lagtā Hai
Mere Āñgan Meñ Hai Vahshat Kā Baserā 'Afzal'
Mujh Ko Ghar Ke Dar-O-Dīvār Se Dar Lagtā Hai
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






