Dhoka
Poet: saiyaan_sham By: saiyaan_sham, rawalpindiMea Sapno Ke Ankh Say
Man Kee Ghare Vadi Mea
Vasl Ke Shamy Pheak Kar
Tanha Odas Mohabat Kee Khush Feham Ankh Mea
Kese By Parvah Shaksh Ky
Mit_Ty Khado Khal Ky Nishaa
Dhondh Kar Palko Kee Jholi Mea
Pheak Dyna Chati Hon
Mea Janti Hon
Palko Kee Jholi Ka Tinka Tinka Nazok Hea
Aur Zraa Say Bhojh Say Modto Say Simtay
Khado Khal Ky Nishaa
Kese Bhe Nazok Lamhy Kee
Nazar Ho Jay Gay
Aur Phir Mere Hath
Sirf Srab Reh Jay Gay
Mea Phir Bhe Hijr Ky Tmam Lamhat
Inhe Khado Khal Ky Sametny Mea
Sraf Karti Hon
Sirf Eas Ley Ky
Agar Tmam Khado Khal Simat Jay
To Mea Onhy Palko Kee Jholi Kee Zenat Kar Don
Ayr Phir Jabh Mere Man Ke Jeet
Mere Zehan Ko Mafloj Kar Day To
Mjhy Nay Dar Kee Kholi Chochakat
Ko Abor Karty Hovy
Mazi Ky Dhondh_Lko Say Nikal Kar
Nai Sar Zameen Par Qdam Rakhna Hea
Jhaa Aas, Kash, Intzar
Milan Aur Dori Kee
Tmam Lehrati Beley Kat Kar Phekna Hea
Ayr Dykhna Hea
Eas Nay Dar Kee Kholi Chochakat Kee Sar Zamez Par
Kanhe Palky Apny Totnay Kay Dar Say
Oss By Parvah Shaksh Kay
Khado Khal Na Gera Day
K!
Man Nay Jo Eas Nai Sar Zamen Par
Banjar Kee Jo Mohar Lgai Hea
Vanha On Khado Khal Say
Vohe Shanca Chehra Na Ban Jay
Jo Meny Pechy Bohat Pechy
Palko Kee Jholi Ky Hawaly Kea Tha
Yaa Shaid Veham Tha Mera
Aay Sham
Aur Vo To Sath He Sath Tha
Har Dam Har Pal
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






