Dhoka
Poet: saiyaan_sham By: saiyaan_sham, rawalpindiMea Sapno Ke Ankh Say
Man Kee Ghare Vadi Mea
Vasl Ke Shamy Pheak Kar
Tanha Odas Mohabat Kee Khush Feham Ankh Mea
Kese By Parvah Shaksh Ky
Mit_Ty Khado Khal Ky Nishaa
Dhondh Kar Palko Kee Jholi Mea
Pheak Dyna Chati Hon
Mea Janti Hon
Palko Kee Jholi Ka Tinka Tinka Nazok Hea
Aur Zraa Say Bhojh Say Modto Say Simtay
Khado Khal Ky Nishaa
Kese Bhe Nazok Lamhy Kee
Nazar Ho Jay Gay
Aur Phir Mere Hath
Sirf Srab Reh Jay Gay
Mea Phir Bhe Hijr Ky Tmam Lamhat
Inhe Khado Khal Ky Sametny Mea
Sraf Karti Hon
Sirf Eas Ley Ky
Agar Tmam Khado Khal Simat Jay
To Mea Onhy Palko Kee Jholi Kee Zenat Kar Don
Ayr Phir Jabh Mere Man Ke Jeet
Mere Zehan Ko Mafloj Kar Day To
Mjhy Nay Dar Kee Kholi Chochakat
Ko Abor Karty Hovy
Mazi Ky Dhondh_Lko Say Nikal Kar
Nai Sar Zameen Par Qdam Rakhna Hea
Jhaa Aas, Kash, Intzar
Milan Aur Dori Kee
Tmam Lehrati Beley Kat Kar Phekna Hea
Ayr Dykhna Hea
Eas Nay Dar Kee Kholi Chochakat Kee Sar Zamez Par
Kanhe Palky Apny Totnay Kay Dar Say
Oss By Parvah Shaksh Kay
Khado Khal Na Gera Day
K!
Man Nay Jo Eas Nai Sar Zamen Par
Banjar Kee Jo Mohar Lgai Hea
Vanha On Khado Khal Say
Vohe Shanca Chehra Na Ban Jay
Jo Meny Pechy Bohat Pechy
Palko Kee Jholi Ky Hawaly Kea Tha
Yaa Shaid Veham Tha Mera
Aay Sham
Aur Vo To Sath He Sath Tha
Har Dam Har Pal
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






