Dil Aur Dimagh K Darmiyan Mukalma
Poet: Tahmi By: Tahmi Usman, KarachiDil Tou Kehta Hy
Wo Mujh Ko Jalata Hy
Behad Yaad Ata Hy!
Isi K Wasty Khud Ko
Bht Masroof Rakhta Hoon
Daftar Sey Jab Aata Hoon
Tou Jo Bhi Kaam Hon Ghr K
Unhain Ma Khud Hi Karta Hoon
Doston Aur Rishtedaron Me
Bht Maqbool Hoon Ab Main
K Un K Kaam B Ab Tou
Ma Apny Sir Py Leta Hoon
Us K Bad Bhi Jab Main
Soota Hoon Tou Lgta Hy
Khwab Jageer Hain Uski
Jo Jata Hoon Tahlny Ko
Tou Saary Raasty
Lagta Hy..Uski Janib Hi Jati Hain
Dimagh Meri Batain Smjh Nahi Paata
Kehta Hy Jhoot Kehty Ho,
Agr Itna Hi Yaad Karty Ho,
Aawaz Akhir Ko Q Nahi Dety?
Tarapty Ho,Bikharty Ho..
Bula Phir Q Nahi Lety?
Tumhain Rasty Bulaty Hain?
Tou Pult Kar Q Nahi Jaaty?
Kehta Hy Tum Ny Chora Tha
Tmari Ulfat Me… Kami Hogi
Rasta Tum Ny Badla Tha
Bewafa Tum Ho…
Main Kehta Hoon…
Mery Apny Hi Fatoor Hain Yara
Tum Unsy Guzr Nahi Sakty
Chora Tha Kis Liye Usko
Tum Ye Kabhi Smjh Nahi Sakty
Ulfat Ki Baat Karty Ho
Yehi Tou Kaam Hy Mera
Wafa Ka Naam Lety Ho
Yehi Emaan Hy Mera
Uski Khushi Isi Me Thi
Chora Tha Jisliye Usko
Yehi Dastoor E Ulfat Hy
Wafa Ka Ain Maqsad Hy
Nami Aankon Me Ley Kar Bhi
Hansna Parta Hy Dikhany Ko
Ulfat Ko Khud Me Dafan Kar K Bhi
Kehna Parta Hy Jany Ko
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






