Hamari Qismt
Poet: mirza ghalib By: tawakal abbas, layyah rajan shahMirza Ghalib
Ye Na Thi Hamari Kismat Ke Visaal-
E-Yaar Hota
Agar Aur Jeetey Rehtey Yehi
Intezaar Hota
Tere Vaade Pr Jiye Hum To Yeh
Jaan Jhoot Jaana
Ke Khushi Se Mar Na Jaate Agar
Aitbaar Hota
Teri Naazuki Se Jana Ke Bandha
Tha Ehd-Boda
Kabhi Tu Na Torr Sakta Agar
Ustuvaar Hota
Koi Mere Dil Se Puuche Tere Teer-
E-Neem-Kash Ko
Yeh Khalish Kahaan Se Hoti Jo
Jigar Ke Paar Hota
Yeh Kahan Ki Dosti Hai Ke Bane
Hain Dost Naaseh
Koi Charaa-Saaz Hota Koi Gham-
Gusaar Hota
Rag-E-Sang Se Tapaktaa Woh
Lahuu Ke Phir Na Thamta
Jise Gham Samajh Rahe Ho Yeh
Agar Sharaar Hota
Gham Agarche Jaan-Guseel Hai Pr
Kahan Bachen Ke Dil Hai
Gham-E-Ishq Gr Na Hota Gham-E-
Rozgaar Hota
Kahoon Kis Se Main Ke Kya Hai
Shab-E-Gham Buri Balaa Hai
Mujhe Kya Buraa Tha Marna Agar
Aik Baar Hota
Huye Mar Ke Hum Jo Rusvaa Huye
Kyun Na Gharq-E-Dariyaa
Na Kabhi Janaaza Uthta Na Kahin
Mazaar Hota
Ussey Kaun Dekh Sakta Ke
Yagaana Hai Woh Yakta
Jo Duii Ki Buu Bhi Hoti To Kahin
Do Chaar Hota
Yeh Masaayel-E-Tasavvuf Yeh Tera
Beyaan Ghalib
Tujhe Hum Walli Samajhte Jo Na
Baada-Khuwaar Hota
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






