اِک کام تِرے ذِمّے نمٹا کے چلے جانا
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہ
اِک کام تِرے ذِمّے نمٹا کے چلے جانا
میں بیٹھا ہی رہ جاؤں تُم آ کے چلے جانا
دِل کو ہے یہ خُوش فہمی کہ رسمِ وفا باقی
ہے ضِد پہ اڑا اِس کو سمجھا کے چلے جانا
سِیکھا ہے یہی ہم نے جو دِل کو پڑے بھاری
اُس رُتبے کو عُہدے کو ٹُھکرا کے چلے جانا
بِیمار پڑے ہو گے، بس حفظِ تقدّم کو
دو ٹِیکے ہی لگنے ہیں لگوا کے چلے جانا
بے وقت مُجھے بُوڑھا کر ڈالا، ابھی خُوش ہو
جاں چھوڑ مِری اے دُکھ سجنا کے چلے جا، نا
پلکوں پہ تِری آنسُو، کیا کام تُجھے دیں گے
دامن میں اِنہیں رکھ کر رسواؔ کے چلے جانا
جانا ہے تُمہیں جاؤ، مرضی ہے تُمہاری، پر
کیا بُھول ہوئی اِتنا بتلا کے چلے جانا
بارِش وہ بیاباں کی وہ ٹھہرا ہوا پانی
پانی سے وہ ستُّو کا بس پھاکے چلے جانا
ہیں چور یہاں منہ زور اور ڈاکو بڑے حسرتؔ
پڑ جائیں کہیں دِل پر نا ڈاکے چلے جانا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






