اسے بُھلا نہیں پایا کبھی، بُھلا کر بھی
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہ
اسے بُھلا نہیں پایا کبھی، بُھلا کر بھی
قرِیب رہتا ہے دل کے، وہ دُور جا کر بھی
وہ جس کے ایک اِشارے پہ جان حاضر کی
اُسی نے منہ نہیں دیکھا کفن ہٹا کر بھی
وہ ایک دور کہ تنہائیوں تھیں بزم مثال
ابھی اکیلا ہوں محفل کوئی سجا کر بھی
غضب خُدا کا ستم گر جلائے چشم چراغ
کسی غریب کے دل کا دیّا بُجھا کر بھی
اگرچہ کرتا رہا ہوں بہت ادا کاری
رہی ہے آنکھ مگر نم سی مُسکرا بھی
کسی نے کھو دیا سب کُچھ ولے ہے سب سے امیر
گدا لگا کوئی مجبور جسم پا کر بھی
ہماری قوم ہے سویا ہؤا محل گویا
کرے گا کیا اِنہیں بیکار میں جگا کر بھی
وہ اپنے دور کی اِک عہد ساز ہستی تھے
بلوچ قوم کے سرخیل میر چاکرؔ بھی
غضب کا حوصلہ پایا ہے تُو نے میرے رشیدؔ
رکھا لبوں پہ تبسّم فریب کھا کر بھی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






