Isaan
Poet: Aroosh Cheema By: Aroosh Cheema, sialkotAe Musalmaan Apny Gareban Mein Jhaank Zara
Kia Tu Wohi He
Kia Wohi Mithaas Hy Lehjy Mein Tery
Kia Wohi Beniazie.E.Dunya Hy Tujh Mein
Kia Dil Mein Agosh.E.Khuda Hy Tery
Kia Man Mein Mehboob.E.Khuda Hy Tery
Kia Wohi Haseen Roz.O.Shub Hein Tery
Kia Mekady Men Wo Khushbu.E.Khuda Hy
Jesy Wo Guzra Ho Abhi K Abhi
Kia Fiza Mein Sursaraht.E.Khushi Hy
Kia Din Pehly Jesa Dalta Hy Tera
Kia Shaam Haseen Hoti Hy Teri
Kia Tery Badan Pe Libas.E.Wadhu Hy
Kia Teri Zubaan Pe Sherini.E.Durood Hy
Kia Hath Mein Tery Madd.E.Insaniat Hy
Kia Nazaroun Mein Haya.E.Insani Hy Teri
Kia Chehry Pe Noor.E.Deedar Hy Tery
Kia Daro Dewaar Ki Pukar ALLAH Hy Tery
Kia Libaas Mein Pakizagi Hy Tery
Kia Beti Mehfooz.O.Pakiza Hy Teri
Magar Tu To Soch Mein Par Gia
Kia Khuda Ny Tujhy Dety Huey Socha
Magar Tu To Anjan Hy Nadaan Hy Na
Tu Ny Socha Wo To Muaf Kar Hi Dy Ga
Q K Wo To Khuda Hy
Magar Tu Kon Hy
Kabhi Socha Tu Ny
Teri Oqaat Kia Hy
Tery Hesiat Kia Hy
Tu Soch Kabi Q Tu Weraan Hy
Q Tery Ghar Mein Khushhalli Nahi
Q Tery Hi Beghany Hein Sub
Q Tery Angan Mein Sursraht.E.Mehbob Nahi
Magar Kash Tu Kabhi Soch Skta
Kash Teri Soch Itni Hoti
Kash Tu Uss Qabil Uss Muqaam Pe Hota
Gr Tu Soch Le
Soch Le
Apna Muqaam Uss K Aagay
To Tu Qasam Sy Khushi Sy Pagal Ho Jaey
Ya Wali Ho Jaey
Magar Afsos Tu To Insaan Hy
Insaan.
Sirf Aik Insaan
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






