Isaan
Poet: Aroosh Cheema By: Aroosh Cheema, sialkotAe Musalmaan Apny Gareban Mein Jhaank Zara
Kia Tu Wohi He
Kia Wohi Mithaas Hy Lehjy Mein Tery
Kia Wohi Beniazie.E.Dunya Hy Tujh Mein
Kia Dil Mein Agosh.E.Khuda Hy Tery
Kia Man Mein Mehboob.E.Khuda Hy Tery
Kia Wohi Haseen Roz.O.Shub Hein Tery
Kia Mekady Men Wo Khushbu.E.Khuda Hy
Jesy Wo Guzra Ho Abhi K Abhi
Kia Fiza Mein Sursaraht.E.Khushi Hy
Kia Din Pehly Jesa Dalta Hy Tera
Kia Shaam Haseen Hoti Hy Teri
Kia Tery Badan Pe Libas.E.Wadhu Hy
Kia Teri Zubaan Pe Sherini.E.Durood Hy
Kia Hath Mein Tery Madd.E.Insaniat Hy
Kia Nazaroun Mein Haya.E.Insani Hy Teri
Kia Chehry Pe Noor.E.Deedar Hy Tery
Kia Daro Dewaar Ki Pukar ALLAH Hy Tery
Kia Libaas Mein Pakizagi Hy Tery
Kia Beti Mehfooz.O.Pakiza Hy Teri
Magar Tu To Soch Mein Par Gia
Kia Khuda Ny Tujhy Dety Huey Socha
Magar Tu To Anjan Hy Nadaan Hy Na
Tu Ny Socha Wo To Muaf Kar Hi Dy Ga
Q K Wo To Khuda Hy
Magar Tu Kon Hy
Kabhi Socha Tu Ny
Teri Oqaat Kia Hy
Tery Hesiat Kia Hy
Tu Soch Kabi Q Tu Weraan Hy
Q Tery Ghar Mein Khushhalli Nahi
Q Tery Hi Beghany Hein Sub
Q Tery Angan Mein Sursraht.E.Mehbob Nahi
Magar Kash Tu Kabhi Soch Skta
Kash Teri Soch Itni Hoti
Kash Tu Uss Qabil Uss Muqaam Pe Hota
Gr Tu Soch Le
Soch Le
Apna Muqaam Uss K Aagay
To Tu Qasam Sy Khushi Sy Pagal Ho Jaey
Ya Wali Ho Jaey
Magar Afsos Tu To Insaan Hy
Insaan.
Sirf Aik Insaan
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






