Kia Tum Aa Nahi Saktay
Poet: Syeda Sadia Amber Jilani By: Syeda Sadia Amber Jilani, FaisalAbad,Punjab, Pakistan.Kia Tum Aa Nahi Saktay
Kuch Pal Mujhay Behla Nahi Saktay
Q Itnay Door Ho Gaiye Ho
Q Khamosh Ho Itnay
Tumhy Maloum Hy Kia?
Hum Udass Hain Kitnay
Q Naraz Ho Gaiye Ho
K Hum Mana Nahi Saktay
Kia Tum Aa Nahi Saktay!
Ye Sard Hawae'n
Yaddo'n Ki Adae'n
Kitni Talakh Hoti Hain
Unmit Hoti Hain
K Jab Bhoolana Chahen
Khud Ko Behlana Chahen
Aur Yaad Aati Hain
Pal Pal Roulatien Hain
Bohat Bawafa Hain Shayed
Sada Sath Nibhati Hain
Hum Bhoola Nahi Saktay
Inhen Mitta Nahi Saktay
Kia Tum Aa Nahi Saktay!
Ansowao'n Ki Barishen
Ye Dard Kh Nawazishen
Zara Tum Hi Batao
Mujhay Ye Baat Samjhao
Bhala Q Zaror Hun
Ahsas Q Magror Hun
Meray Behtay Ansoo Ko
Apni Hathyli Me Sama Nahi Saktay
Mere Bharrtay Gham Ko Ghata Nahi Saktay
Kia Tum Aa Nahi Sakaty!
Musam Badaltay Hain
Q Dard Nahi Badaltay
Tum Chaand Ho To
Q Nahi Nikaltay
Q Chupay Ho
K Hum Apna Nahi Saktay
Tumhen Paa Nahi Saktay
Kia Tum Aa Nahi Saktay!
Amber! Tum Bin Taray
Jaisay K Uduray Hun
Bechain Say Jaisay
Koi Karwaa'n Thehray Hun
Ye Kon Tanhaio'n Mein
Muhabat Ki Sachaio'n Mein
Aksir Kehta Hy
Dill Udass Rehta Hy
Kia Tum Sun Nahi Saktay
Wada Nibhaa Nahi Saktay
Kia Tum Aa Nahi Saktay
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے







