Poetries by Muhammad Baber Zaman
ہے مزید اُداسی دوا اُداسی کی سکوتِ شام میں گُونجی سدا اُداسی کی
کہ ہے مزید اُداسی دوا اُداسی کی
امورِ دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں
یہاں فقط تیری چلتی ہے یا اُداسی کی
بہت شریر تھا میں اور ہنستا پھرتا تھا
پھر اک فقیر نے دے دی دعا اُداسی کی
چراغِ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا
کہ آج رات چلے گی ہوا اُداسی کی
بہت دنوں سے ملاقات ہی نہیں محسن
کہیں سے خیر خبر لے کے آ اُداسی کی Muhammad Baber Zaman
کہ ہے مزید اُداسی دوا اُداسی کی
امورِ دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں
یہاں فقط تیری چلتی ہے یا اُداسی کی
بہت شریر تھا میں اور ہنستا پھرتا تھا
پھر اک فقیر نے دے دی دعا اُداسی کی
چراغِ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا
کہ آج رات چلے گی ہوا اُداسی کی
بہت دنوں سے ملاقات ہی نہیں محسن
کہیں سے خیر خبر لے کے آ اُداسی کی Muhammad Baber Zaman
غم آپ جواں ہوتے ہیں، پالے نہیں جاتے گِر جائیں زمیں پر تو سنبھالے نہیں جاتے
بازار میں دکھ درد اُچھالے نہیں جاتے
آنکھوں سے نکلتے ہو مگر دھیان میں رہنا
تم جیسے کبھی دل سے نکالے نہیں جاتے
اب مجھ سے اِن آنکھوں کی حفاظت نہیں ہوتی
اب مجھ سے تیرے خواب سنبھالے نہیں جاتے
جنگل کے یہ پودے ہیں، اِنہیں چھوڑ دو محسن
غم آپ جواں ہوتے ہیں، پالے نہیں جاتے Muhammad Baber Zaman
بازار میں دکھ درد اُچھالے نہیں جاتے
آنکھوں سے نکلتے ہو مگر دھیان میں رہنا
تم جیسے کبھی دل سے نکالے نہیں جاتے
اب مجھ سے اِن آنکھوں کی حفاظت نہیں ہوتی
اب مجھ سے تیرے خواب سنبھالے نہیں جاتے
جنگل کے یہ پودے ہیں، اِنہیں چھوڑ دو محسن
غم آپ جواں ہوتے ہیں، پالے نہیں جاتے Muhammad Baber Zaman
نقش ایسے تیری یادوں کے بکھر جاتے ہیں نقش ایسے تیری یادوں کے بکھر جاتےہیں
جیسے تقدیر کے عنوان سنور جاتے ہیں
دل تو شیشہ ہے، یہ شیشے سے بھی نازک تر
لوگ پتھر کے ہیں، جو ٹکرا کے گزر جاتے ہیں
دل ملا ہے ہمیں ایسا کہ اگر غم بھی ملیں
اُن کو سینے سے لگائے ہوئے مر جاتے ہیں
اب تو یوں ٹُوٹ گیا رشتئہ اُلفت کا بھرم
جیسے بیتے ہوئے لمحات گزر جاتے ہیں
دیکھتے ہیں جو اُسے غیر کی محفل میں کبھی
ہم اُداسی کے سمندر میں اُتر جاتے ہیں
Muhammad Baber Zaman
جیسے تقدیر کے عنوان سنور جاتے ہیں
دل تو شیشہ ہے، یہ شیشے سے بھی نازک تر
لوگ پتھر کے ہیں، جو ٹکرا کے گزر جاتے ہیں
دل ملا ہے ہمیں ایسا کہ اگر غم بھی ملیں
اُن کو سینے سے لگائے ہوئے مر جاتے ہیں
اب تو یوں ٹُوٹ گیا رشتئہ اُلفت کا بھرم
جیسے بیتے ہوئے لمحات گزر جاتے ہیں
دیکھتے ہیں جو اُسے غیر کی محفل میں کبھی
ہم اُداسی کے سمندر میں اُتر جاتے ہیں
Muhammad Baber Zaman
زندہ جلا گئے مجھ کو۔۔۔۔۔ چراغ دشت کے زندہ جلا گئے مجھ کو
یہ درد شام کے لمحوں میں کھا گئے مجھ کو
ہمیں تو پھول کی خوشبُو پہ نیند آتی تھی
نہ جانے خاک پہ کیسے سُلا گئے مجھ کو
یہاں تو وقت کی آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے
یہ میزباں کہاں پر بٹھا گئے مجھ کو
تیرے حجاب کو چُھو کر ہوائیں آتی تھیں
یہی خیال تو پتھر بنا گئے مجھ کو
ہمارے ضبط کی دنیا مثال دیتی تھی
نکال کے آنکھ سے آنسُو رُلا گئے مجھ کو Muhammad Baber Zaman
یہ درد شام کے لمحوں میں کھا گئے مجھ کو
ہمیں تو پھول کی خوشبُو پہ نیند آتی تھی
نہ جانے خاک پہ کیسے سُلا گئے مجھ کو
یہاں تو وقت کی آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے
یہ میزباں کہاں پر بٹھا گئے مجھ کو
تیرے حجاب کو چُھو کر ہوائیں آتی تھیں
یہی خیال تو پتھر بنا گئے مجھ کو
ہمارے ضبط کی دنیا مثال دیتی تھی
نکال کے آنکھ سے آنسُو رُلا گئے مجھ کو Muhammad Baber Zaman
میں دھرتی میلی میلی سی۔۔۔ میں دھرتی میلی میلی سی
تُو اُجلا اُجلا پریم گگن
تو چنچل شور ہواؤں کو
میں کنکر پاؤں کا
تُو سات سُروں کا رُوپ کوئی
میں تپتی، جلتی دھوپ کوئی
تُو خُوشبو نرمل کلیوں کی
میں دُھول اُداس گلیوں کی
تُو صبح کا پیغام کوئی
میں بوجھل ڈھلتی شام کوئی
تُو جنگل کا مور کوئی
میں صحراؤں کا شور کوئی
تُو چاند نگر کی حُور کوئی
میں آس میں بیٹھا دور کوئی
میں دھرتی میلی میلی سی
تُو اُجلا اُجلا پریم گگن Muhammad Baber Zaman
تُو اُجلا اُجلا پریم گگن
تو چنچل شور ہواؤں کو
میں کنکر پاؤں کا
تُو سات سُروں کا رُوپ کوئی
میں تپتی، جلتی دھوپ کوئی
تُو خُوشبو نرمل کلیوں کی
میں دُھول اُداس گلیوں کی
تُو صبح کا پیغام کوئی
میں بوجھل ڈھلتی شام کوئی
تُو جنگل کا مور کوئی
میں صحراؤں کا شور کوئی
تُو چاند نگر کی حُور کوئی
میں آس میں بیٹھا دور کوئی
میں دھرتی میلی میلی سی
تُو اُجلا اُجلا پریم گگن Muhammad Baber Zaman
مجھے نہیں ہے جاناں۔۔۔۔! لباس تن سے اُتار دینا
کسی کو بانہوں کے ہار دینا
پھر اُسکے جذبوں کو مار دینا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے
گناہ کرنے کا سوچ لینا
حسین پریاں دبوچ لینا
پھر اُسکی آنکھیں ہی نوچ لینا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرن مجھے نہیں ہے
کسی کو لفظوں کے جال دینا
کسی کو جذبوں کی ڈھال دینا
پھر اُسکی عزت اُچھال دینا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرن مجھے نہیں ہے
اندھیر نگری میں چلتے جانا
حسین کلیاں مسلتے جانا
اور اپنی فطرت پہ مسکرانا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرن مجھے نہیں ہے Muhammad Baber Zaman
کسی کو بانہوں کے ہار دینا
پھر اُسکے جذبوں کو مار دینا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے
گناہ کرنے کا سوچ لینا
حسین پریاں دبوچ لینا
پھر اُسکی آنکھیں ہی نوچ لینا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرن مجھے نہیں ہے
کسی کو لفظوں کے جال دینا
کسی کو جذبوں کی ڈھال دینا
پھر اُسکی عزت اُچھال دینا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرن مجھے نہیں ہے
اندھیر نگری میں چلتے جانا
حسین کلیاں مسلتے جانا
اور اپنی فطرت پہ مسکرانا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرن مجھے نہیں ہے Muhammad Baber Zaman
سنو۔۔! یوں عمر گھٹتی ہے۔ سنو۔۔۔ یوں عمر گھٹتی ہے
بہت سوچا نہیں کرتے
محبت کر کے آئینہ
بہت دیکھا نہیں کرتے
یوں ہاتھوں کی لکیروں کو
بہت چوما نہیں کرتے
کسی دل میں وہ کہتا ہے
بہت ٹھہرا نہیں کرتے
جو خود اپنا ہو آئینہ
اُسے دھندلہ نہیں کرتے
جہاں تاریک سوچیں ہوں
وہاں چمکا نہیں کرتے
جو آنسُو دل سے اُ بھریں ہو
اُنہیں روکا نہیں کرتے
اکیلے خود تو رہتے ہیں
نہیں تنہا نہیں کرتے
کسی کے ہجر میں بابر
بہت جاگا نہیں کرتے
سنو----!
یوں عمر گھٹتی ہے
بہت سوچا نہیں کرتے Muhammad Baber Zaman
بہت سوچا نہیں کرتے
محبت کر کے آئینہ
بہت دیکھا نہیں کرتے
یوں ہاتھوں کی لکیروں کو
بہت چوما نہیں کرتے
کسی دل میں وہ کہتا ہے
بہت ٹھہرا نہیں کرتے
جو خود اپنا ہو آئینہ
اُسے دھندلہ نہیں کرتے
جہاں تاریک سوچیں ہوں
وہاں چمکا نہیں کرتے
جو آنسُو دل سے اُ بھریں ہو
اُنہیں روکا نہیں کرتے
اکیلے خود تو رہتے ہیں
نہیں تنہا نہیں کرتے
کسی کے ہجر میں بابر
بہت جاگا نہیں کرتے
سنو----!
یوں عمر گھٹتی ہے
بہت سوچا نہیں کرتے Muhammad Baber Zaman
اک شخص کو دیکھا تھا۔ اک شخص کو دیکھا تھا تاروں کی طرح ہم نے
اک شخص کو چاہا تھا اپنوں کی طرح ہم نے
وہ شخص قیامت تھا، کیا اُس کی کریں باتیں
دن اُس کے لیئے پیدا، اور اُس کی ہی تھی راتیں
کب ملتا کسی سے تھا، ہم سے تھیں ملاقاتیں
رنگ اُسکا شہابی تھا زُلفوں میں تھی مہکاریں
آنکھیں تھیں کہ جادو تھا پلکیں تھیں کہ تلواریں
دشمن بھی اگر دیکھیں سو جان سے دل ہاریں
کچھ تم سے وہ ملتا تھا، باتوں میں شہابت تھی
ہاں تم سا ہی لگتا تھا، شوخی میں شرارت میں
لگتا ہی تمہی سا تھا دستورِ محبت میں
وہ شخص ہمیں اک دن اپنوں کی طرح بھولا
تاروں کی طرح ڈوبا، پھولوں کی طرح ٹوٹا
پھر ہاتھ نہ آیا وہ، ہم نے بہت ڈھونڈا
تم کس لیئے چونکے ہو؟ کب زکر تمہارا ہے؟
کب تم سے تقاضا ہے کب تم سے شکائت ہے؟
اک تازہ حکائیت ہے، سن لو تو عنایئت ہے
اک شخص کو چاہا تھا اپنوں کی طرح ہم نے Muhammad Baber Zaman
اک شخص کو چاہا تھا اپنوں کی طرح ہم نے
وہ شخص قیامت تھا، کیا اُس کی کریں باتیں
دن اُس کے لیئے پیدا، اور اُس کی ہی تھی راتیں
کب ملتا کسی سے تھا، ہم سے تھیں ملاقاتیں
رنگ اُسکا شہابی تھا زُلفوں میں تھی مہکاریں
آنکھیں تھیں کہ جادو تھا پلکیں تھیں کہ تلواریں
دشمن بھی اگر دیکھیں سو جان سے دل ہاریں
کچھ تم سے وہ ملتا تھا، باتوں میں شہابت تھی
ہاں تم سا ہی لگتا تھا، شوخی میں شرارت میں
لگتا ہی تمہی سا تھا دستورِ محبت میں
وہ شخص ہمیں اک دن اپنوں کی طرح بھولا
تاروں کی طرح ڈوبا، پھولوں کی طرح ٹوٹا
پھر ہاتھ نہ آیا وہ، ہم نے بہت ڈھونڈا
تم کس لیئے چونکے ہو؟ کب زکر تمہارا ہے؟
کب تم سے تقاضا ہے کب تم سے شکائت ہے؟
اک تازہ حکائیت ہے، سن لو تو عنایئت ہے
اک شخص کو چاہا تھا اپنوں کی طرح ہم نے Muhammad Baber Zaman
غریب کا زیور لُٹ گئی یوں سرِ بازار وفا کی پُونجی
بِک گیا وہ کسی غریب کے زیور کی طرح Muhammad Baber Zaman
بِک گیا وہ کسی غریب کے زیور کی طرح Muhammad Baber Zaman
سکون اور عشق سکون اور عشق اور وہ بھی دونوں ایک ساتھ
رہنے دو محسن کوئی عقل کی بات کرو Muhammad Baber Zaman
رہنے دو محسن کوئی عقل کی بات کرو Muhammad Baber Zaman
وفا ہے زات عورت کی وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی
وفا ہے زات عورت کی
مگر۔جو مرد ہوتے ہیں
بہت بیدرد ہوتے ہیں
کسی بھنورے کی صورت
گُل کی خوشبُو لُوٹ جاتے ہیں
سنو۔۔۔تُم کو قسم میری
روایت توڑ دینا تم
نہ تنہا چھوڑ کے جانا
نہ یہ دل توڑ کے جانا
مگر ۔۔۔ پھر یوں ہوا اِک دن
مجھے انجان رستے پر
اکیلا چھوڑ کر اُس نے
میرا دل توڑ کر اُس نے
محبت چھوڑ دی اُس نے
وفا ہے ذات عورت کی
روایت توڑ دی اُس نے Muhammad Baber Zaman
وفا ہے زات عورت کی
مگر۔جو مرد ہوتے ہیں
بہت بیدرد ہوتے ہیں
کسی بھنورے کی صورت
گُل کی خوشبُو لُوٹ جاتے ہیں
سنو۔۔۔تُم کو قسم میری
روایت توڑ دینا تم
نہ تنہا چھوڑ کے جانا
نہ یہ دل توڑ کے جانا
مگر ۔۔۔ پھر یوں ہوا اِک دن
مجھے انجان رستے پر
اکیلا چھوڑ کر اُس نے
میرا دل توڑ کر اُس نے
محبت چھوڑ دی اُس نے
وفا ہے ذات عورت کی
روایت توڑ دی اُس نے Muhammad Baber Zaman
ذندگی حرام کریں جدا ہوئے ہیں کئی لوگ ایک تم بھی سہی
اب اتنی سی بات پے کیا زندگی حرام کریں Muhammad Baber Zaman
اب اتنی سی بات پے کیا زندگی حرام کریں Muhammad Baber Zaman