نقش ایسے تیری یادوں کے بکھر جاتے ہیں
Poet: Muhammad Baber Zaman By: Muhammad Baber Zaman, Sahiwalنقش ایسے تیری یادوں کے بکھر جاتےہیں
جیسے تقدیر کے عنوان سنور جاتے ہیں
دل تو شیشہ ہے، یہ شیشے سے بھی نازک تر
لوگ پتھر کے ہیں، جو ٹکرا کے گزر جاتے ہیں
دل ملا ہے ہمیں ایسا کہ اگر غم بھی ملیں
اُن کو سینے سے لگائے ہوئے مر جاتے ہیں
اب تو یوں ٹُوٹ گیا رشتئہ اُلفت کا بھرم
جیسے بیتے ہوئے لمحات گزر جاتے ہیں
دیکھتے ہیں جو اُسے غیر کی محفل میں کبھی
ہم اُداسی کے سمندر میں اُتر جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






