سنو۔۔! یوں عمر گھٹتی ہے۔
Poet: By: Muhammad Baber Zaman, Sahiwalسنو۔۔۔ یوں عمر گھٹتی ہے
بہت سوچا نہیں کرتے
محبت کر کے آئینہ
بہت دیکھا نہیں کرتے
یوں ہاتھوں کی لکیروں کو
بہت چوما نہیں کرتے
کسی دل میں وہ کہتا ہے
بہت ٹھہرا نہیں کرتے
جو خود اپنا ہو آئینہ
اُسے دھندلہ نہیں کرتے
جہاں تاریک سوچیں ہوں
وہاں چمکا نہیں کرتے
جو آنسُو دل سے اُ بھریں ہو
اُنہیں روکا نہیں کرتے
اکیلے خود تو رہتے ہیں
نہیں تنہا نہیں کرتے
کسی کے ہجر میں بابر
بہت جاگا نہیں کرتے
سنو----!
یوں عمر گھٹتی ہے
بہت سوچا نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






