Poetries by Muhammad Naseer Ahsan
پردہ نشیں خانہ دل جلا کے دیکھ لیا
زخم یاروں کے دیکھ لیا
ہاتھ آیا نہ الفتو ں کا سفر
دل جگر سب جلا کے دیکھ لیا
ہم تو سمجھے تھے کائنات ہے تو
آج تجھ کو بھی پا کے دیکھ لیا
تم جو کہتے تھے آؤ دیکھو ہمیں
آئی ہم اور آ کے دیکھ لیا
کیا محبت ہے کونسی الفت
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
تھے وہ پردہ نشیں زمانے کے
ہم نے پردہ ہٹا کے دیکھ لیا
ہم سا کوئی کبھی ملے گا کہیں
تم نے بھی آزما کے دیکھ لیا
تم نے احسن طریق پر احسن
یار احسن ادا کو دیکھ لیا Muhammad naseer Ahsan
زخم یاروں کے دیکھ لیا
ہاتھ آیا نہ الفتو ں کا سفر
دل جگر سب جلا کے دیکھ لیا
ہم تو سمجھے تھے کائنات ہے تو
آج تجھ کو بھی پا کے دیکھ لیا
تم جو کہتے تھے آؤ دیکھو ہمیں
آئی ہم اور آ کے دیکھ لیا
کیا محبت ہے کونسی الفت
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
تھے وہ پردہ نشیں زمانے کے
ہم نے پردہ ہٹا کے دیکھ لیا
ہم سا کوئی کبھی ملے گا کہیں
تم نے بھی آزما کے دیکھ لیا
تم نے احسن طریق پر احسن
یار احسن ادا کو دیکھ لیا Muhammad naseer Ahsan
انٹرنیٹ کی میم کروں چیٹنگ میں اک ویب گیم دیکھوں
پھر اس ویب گیم میں اک میم دیکھوں
اسی کے حسن بے پردہ میں ڈوبا
زمانے بھر سے اس کو اہم دیکھوں
اسی سے ہی کروں گا میں تو شادی
خیالوں میں گھرا اک وہم دیکھوں
کروں ٹائپنگ میں صبح و شام یارو
نہ چیٹنگ کا میں کوئی ٹائم دیکھوں
اسے چمٹا ہوں میں وہ میرے نیچے
عجب کرسی پہ خود کو قائم دیکھوں
ہوئی ڈسٹرب ہے اب لائف میری
نہ سوؤں شب نہ بالکل صبح اٹھوں
نہ دیکھے کوئی مجھ کو ایسا کرتے
کلک کر کے ذرا سا سہم دیکھوں
ہو تیرا شکریہ یا ہو میسنجر
ملایا تو نے مجھ سے میرا دلبر Muhammad Naseer Ahsan
پھر اس ویب گیم میں اک میم دیکھوں
اسی کے حسن بے پردہ میں ڈوبا
زمانے بھر سے اس کو اہم دیکھوں
اسی سے ہی کروں گا میں تو شادی
خیالوں میں گھرا اک وہم دیکھوں
کروں ٹائپنگ میں صبح و شام یارو
نہ چیٹنگ کا میں کوئی ٹائم دیکھوں
اسے چمٹا ہوں میں وہ میرے نیچے
عجب کرسی پہ خود کو قائم دیکھوں
ہوئی ڈسٹرب ہے اب لائف میری
نہ سوؤں شب نہ بالکل صبح اٹھوں
نہ دیکھے کوئی مجھ کو ایسا کرتے
کلک کر کے ذرا سا سہم دیکھوں
ہو تیرا شکریہ یا ہو میسنجر
ملایا تو نے مجھ سے میرا دلبر Muhammad Naseer Ahsan
دھماکہ حوصلہ ہاریں نہ بالکل اور نہ ہمت پست ہو
آزمائش گرچہ مشکل اور کڑی اور سخت ہو
ہم تو ہیں اسلامین اسلام ہی کے جاں نثار
دین و ملت پہ کٹیں گے فخر سے ہم بار بار
علم کے شیدائی ہیں اور امن کے طالب ہیں ہم
روح الفت میں فنا یکجان دو قالب ہیں ہم
مرکز ملت پہ دشمن نے کیا پھر وار ہے
اتحاد باہمی کیوں لاغر و لاچار ہے
علم کی شمع بجھانا اتنا آساں تو نہیں
خون مسلم یوں بہانا اتنا ارزاں تو نہیں
درد دل احسن کیا ہم نے بیاں اس طور سے
کاش پڑ ھ لے کوئی اہل دل انہیں اب غور سے Muhammad Naseer Ahsan
آزمائش گرچہ مشکل اور کڑی اور سخت ہو
ہم تو ہیں اسلامین اسلام ہی کے جاں نثار
دین و ملت پہ کٹیں گے فخر سے ہم بار بار
علم کے شیدائی ہیں اور امن کے طالب ہیں ہم
روح الفت میں فنا یکجان دو قالب ہیں ہم
مرکز ملت پہ دشمن نے کیا پھر وار ہے
اتحاد باہمی کیوں لاغر و لاچار ہے
علم کی شمع بجھانا اتنا آساں تو نہیں
خون مسلم یوں بہانا اتنا ارزاں تو نہیں
درد دل احسن کیا ہم نے بیاں اس طور سے
کاش پڑ ھ لے کوئی اہل دل انہیں اب غور سے Muhammad Naseer Ahsan
متاع حرف شوق کی منزل کو کس نے بے دری کا گھر دیا
کس نے بے توقیر لوگوں کو مقفی سر دیا
دو قبولیت کی تم میری دعاؤں کو دعا
میں نے اپنے آنسوؤں کو دست بہ دعا کر دیا
ساقیا تیری نوازش میں تو اس قابل نہ تھا
نور وحدت کا جو دل کو تو نے اک ساغر دیا
تابہ کے ناچے گی دیوی مفلسی کی دیس میں
خون معصوماں بشکل بھینٹ اسے اکثر دیا
تہمتوں کے دیس میں دامن بچا کے چل دئے
اور اک الزام قدموں کے نشاں نے دھر دیا
ہم نے تو کعبہ نما دل آپکو ہدیہ کیا
آپ نے اس کے مقابل اک ہمیں پتھر دیا
احسن تقویم پر پیدا کیا انسان کو
راندہء درگاہ پھر عصیاں کفر نے کر دیا Muhammad Naseer Ahsan
کس نے بے توقیر لوگوں کو مقفی سر دیا
دو قبولیت کی تم میری دعاؤں کو دعا
میں نے اپنے آنسوؤں کو دست بہ دعا کر دیا
ساقیا تیری نوازش میں تو اس قابل نہ تھا
نور وحدت کا جو دل کو تو نے اک ساغر دیا
تابہ کے ناچے گی دیوی مفلسی کی دیس میں
خون معصوماں بشکل بھینٹ اسے اکثر دیا
تہمتوں کے دیس میں دامن بچا کے چل دئے
اور اک الزام قدموں کے نشاں نے دھر دیا
ہم نے تو کعبہ نما دل آپکو ہدیہ کیا
آپ نے اس کے مقابل اک ہمیں پتھر دیا
احسن تقویم پر پیدا کیا انسان کو
راندہء درگاہ پھر عصیاں کفر نے کر دیا Muhammad Naseer Ahsan
درد کی دل کی یار کی باتیں درد کی دل کی یار کی باتیں
بلبل و گل کی خار کی باتیں
پھول دریا پہاڑ ادر پنچھی
سب ہی کرتے ہیں پیار کی باتیں
لب کی لالی و رخ کے غازے کی
اور کاجل کی دھار کی باتیں
شب جو گزری تھی پاس واعظ کے
جنت و حور و نار کی باتیں
دشت میں درد کا سماں ہے کوئی
آنکھ کرتی ہے زار کی باتیں
من میں جھانکوں کہ چشم بول اٹھے
راز کی اعتبار کی باتیں
روٹھ جائیں گے ایک دن تجھ سے
پھر کریں گے نہ پیار کی باتیں
آؤ احسن کہ آج خوب کریں
عندلیب بہار کی باتیں Muhammad Naseer Ahsan
بلبل و گل کی خار کی باتیں
پھول دریا پہاڑ ادر پنچھی
سب ہی کرتے ہیں پیار کی باتیں
لب کی لالی و رخ کے غازے کی
اور کاجل کی دھار کی باتیں
شب جو گزری تھی پاس واعظ کے
جنت و حور و نار کی باتیں
دشت میں درد کا سماں ہے کوئی
آنکھ کرتی ہے زار کی باتیں
من میں جھانکوں کہ چشم بول اٹھے
راز کی اعتبار کی باتیں
روٹھ جائیں گے ایک دن تجھ سے
پھر کریں گے نہ پیار کی باتیں
آؤ احسن کہ آج خوب کریں
عندلیب بہار کی باتیں Muhammad Naseer Ahsan
شہیدان با وفا بین الا قوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شہید ہونے والے طلبا و طالبات آمنہ طاہر۔ سیدہ آمنہ بتول۔ طیبہ۔ حنا۔ سدرہ خالد۔ حافظ خلیل الرحمٰن۔ حافظ نفیس کے نام ۔ ۔ ۔
لہو میں ڈوبا قلم تو کیا ہے کتاب خوں سے لکھا کریں گے
ملائکہ کے جلو میں ہم تو سبق بھی اپنا پڑھا کریں گے
نثار اپنے وطن پہ یارو ہزار جانیں بھی ہوں تو قرباں
حیات فانی کی منزلوں میں قدم قدم ہم وفا کریں گے
سدا ہر اک سطر میں سلامت یہ آگہی کا سفر رہے گا
کتاب انمول کی کہانی زبان دل سے پڑھا کریں گے
رفو گری کے نہیں ہیں قائل کہ دنیا دیوانہ جانتی ہے
ستم سے غیروں کے چاک داماں محبتوں سے سیا کریں گے
لگائے دشمن ہزار نشتر اٹھائے خنجر دل و جگر پر
تلاش علم و شعور و عرفاں میں مسکرا کے سہا کریں گے
فگار ہاتھوں کی انگلیاں پر خلوص اشکوں کی روشنائی
ہمارے ساتھی ہماری یادوں میں جب غزل اک لکھا کریں گے
رسولیاں نفرتوں کی کب تک خودی ہماری کریں گی گھائل
تماشا کب تک رہے گا جاری کہ فرقہ فرقہ بٹا کریں گے
غلام ذہنوں میں فکر ناقص جو پل رہی ہے بمثل دیمک
نمدونام اور جاہ و منصب کے حاشیے کب سوا کریں گے
سلام تم پر شہید بہنوں سحاب رحمت شہید بھائیوں
ہماری آنکھوں کے آنسوؤں میں دیے تمہارے جلا کریں گے
تمہارا منصب جدا ہے ہم سے کہ تم شہیدان با وفا ہو
مقام راحت عطا ہو دائم قلوب محزوں دغا کریں گے
میرے وطن کا ہر اک پرندہ اڑے گا آزاد رفعتوں میں
پیام احسن تو بس یہی ہے کہ سچ ہمیشہ کہا کریں گے
محمد نصیر احسن۔ لیکچرر انوائرنمنٹل سائنس بین الا قوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد Muhammad Naseer Ahsan
لہو میں ڈوبا قلم تو کیا ہے کتاب خوں سے لکھا کریں گے
ملائکہ کے جلو میں ہم تو سبق بھی اپنا پڑھا کریں گے
نثار اپنے وطن پہ یارو ہزار جانیں بھی ہوں تو قرباں
حیات فانی کی منزلوں میں قدم قدم ہم وفا کریں گے
سدا ہر اک سطر میں سلامت یہ آگہی کا سفر رہے گا
کتاب انمول کی کہانی زبان دل سے پڑھا کریں گے
رفو گری کے نہیں ہیں قائل کہ دنیا دیوانہ جانتی ہے
ستم سے غیروں کے چاک داماں محبتوں سے سیا کریں گے
لگائے دشمن ہزار نشتر اٹھائے خنجر دل و جگر پر
تلاش علم و شعور و عرفاں میں مسکرا کے سہا کریں گے
فگار ہاتھوں کی انگلیاں پر خلوص اشکوں کی روشنائی
ہمارے ساتھی ہماری یادوں میں جب غزل اک لکھا کریں گے
رسولیاں نفرتوں کی کب تک خودی ہماری کریں گی گھائل
تماشا کب تک رہے گا جاری کہ فرقہ فرقہ بٹا کریں گے
غلام ذہنوں میں فکر ناقص جو پل رہی ہے بمثل دیمک
نمدونام اور جاہ و منصب کے حاشیے کب سوا کریں گے
سلام تم پر شہید بہنوں سحاب رحمت شہید بھائیوں
ہماری آنکھوں کے آنسوؤں میں دیے تمہارے جلا کریں گے
تمہارا منصب جدا ہے ہم سے کہ تم شہیدان با وفا ہو
مقام راحت عطا ہو دائم قلوب محزوں دغا کریں گے
میرے وطن کا ہر اک پرندہ اڑے گا آزاد رفعتوں میں
پیام احسن تو بس یہی ہے کہ سچ ہمیشہ کہا کریں گے
محمد نصیر احسن۔ لیکچرر انوائرنمنٹل سائنس بین الا قوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد Muhammad Naseer Ahsan
ڈرائیور ہمیں وقت دے وہ جو دل اس کا چاہے
مگر انکی مرضی سے آئے ڈرائیور
جو ہم کچھ کہیں تو نہ وہ ملتفت ہو
مگر ان سے گپ شپ لگائے ڈرائیور
انہیں آف دی وے اٹھا کر بھی خوش ہو
نہ مسکن سے ہم کو اٹھائے ڈرائیور
جو نازک کلائی کرے گر اشارہ
تو چیں چاں بریکیں لگائے ڈرائیور
جو ہم دونوں بازو ہلائیں کہ رک جا
تو لائٹیں جلا کر بجھائے ڈرائیور
نہ جانےوہ کیوں اتنا خادم ہے ان کا
کبھی راز یہ بھی بتائے ڈرائیور Muhammad Naseer Ahsan
مگر انکی مرضی سے آئے ڈرائیور
جو ہم کچھ کہیں تو نہ وہ ملتفت ہو
مگر ان سے گپ شپ لگائے ڈرائیور
انہیں آف دی وے اٹھا کر بھی خوش ہو
نہ مسکن سے ہم کو اٹھائے ڈرائیور
جو نازک کلائی کرے گر اشارہ
تو چیں چاں بریکیں لگائے ڈرائیور
جو ہم دونوں بازو ہلائیں کہ رک جا
تو لائٹیں جلا کر بجھائے ڈرائیور
نہ جانےوہ کیوں اتنا خادم ہے ان کا
کبھی راز یہ بھی بتائے ڈرائیور Muhammad Naseer Ahsan