شہیدان با وفا
Poet: Muhammad Naseer Ahsan By: Muhammad Naseer Ahsan, Islamabadبین الا قوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شہید ہونے والے طلبا و طالبات آمنہ طاہر۔ سیدہ آمنہ بتول۔ طیبہ۔ حنا۔ سدرہ خالد۔ حافظ خلیل الرحمٰن۔ حافظ نفیس کے نام ۔ ۔ ۔
لہو میں ڈوبا قلم تو کیا ہے کتاب خوں سے لکھا کریں گے
ملائکہ کے جلو میں ہم تو سبق بھی اپنا پڑھا کریں گے
نثار اپنے وطن پہ یارو ہزار جانیں بھی ہوں تو قرباں
حیات فانی کی منزلوں میں قدم قدم ہم وفا کریں گے
سدا ہر اک سطر میں سلامت یہ آگہی کا سفر رہے گا
کتاب انمول کی کہانی زبان دل سے پڑھا کریں گے
رفو گری کے نہیں ہیں قائل کہ دنیا دیوانہ جانتی ہے
ستم سے غیروں کے چاک داماں محبتوں سے سیا کریں گے
لگائے دشمن ہزار نشتر اٹھائے خنجر دل و جگر پر
تلاش علم و شعور و عرفاں میں مسکرا کے سہا کریں گے
فگار ہاتھوں کی انگلیاں پر خلوص اشکوں کی روشنائی
ہمارے ساتھی ہماری یادوں میں جب غزل اک لکھا کریں گے
رسولیاں نفرتوں کی کب تک خودی ہماری کریں گی گھائل
تماشا کب تک رہے گا جاری کہ فرقہ فرقہ بٹا کریں گے
غلام ذہنوں میں فکر ناقص جو پل رہی ہے بمثل دیمک
نمدونام اور جاہ و منصب کے حاشیے کب سوا کریں گے
سلام تم پر شہید بہنوں سحاب رحمت شہید بھائیوں
ہماری آنکھوں کے آنسوؤں میں دیے تمہارے جلا کریں گے
تمہارا منصب جدا ہے ہم سے کہ تم شہیدان با وفا ہو
مقام راحت عطا ہو دائم قلوب محزوں دغا کریں گے
میرے وطن کا ہر اک پرندہ اڑے گا آزاد رفعتوں میں
پیام احسن تو بس یہی ہے کہ سچ ہمیشہ کہا کریں گے
محمد نصیر احسن۔ لیکچرر انوائرنمنٹل سائنس بین الا قوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






