Poetries by Rizwan Tabassum Razzi
مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ
میں جاؤں مدینہ تو آؤں کبھی نہ
جھکا ھو میرا سر میں پہنچو تیرے در
اور برستا ھو آنکھوں سےاشکوں کا مینہ
تیری نظر رحمت تراشے جو مجھکو
میں ھو جاؤں بے مثل چمکتا نگینہ
بھلا کر میں تم کو زندہ رہوں گا
نہ نہ کبھی نہ کبھی نہ کبھی نہ
مچلتی ھے حسرت تڑپتا یہ دل ھے
شہر تیرے جاتا جو دیکھوں سفینہ
ہر پل میرا دل رضی یہ پکا رے
مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ Muhammad Rizwan Tabassum Razzi
میں جاؤں مدینہ تو آؤں کبھی نہ
جھکا ھو میرا سر میں پہنچو تیرے در
اور برستا ھو آنکھوں سےاشکوں کا مینہ
تیری نظر رحمت تراشے جو مجھکو
میں ھو جاؤں بے مثل چمکتا نگینہ
بھلا کر میں تم کو زندہ رہوں گا
نہ نہ کبھی نہ کبھی نہ کبھی نہ
مچلتی ھے حسرت تڑپتا یہ دل ھے
شہر تیرے جاتا جو دیکھوں سفینہ
ہر پل میرا دل رضی یہ پکا رے
مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ Muhammad Rizwan Tabassum Razzi
مجھ سے میرا دل میری جان چھین کر مجھ سے میرا دل میری جان چھین کر
وہ تڑپ رہا ہے مجھ سے یہ سامان چھین کر
اسے سونے نہیں دیتی ہیں میری آہ و زاریاں
وہ خوش کہاں ہے خود میری مسکان چھین کر
اہل جفاء بتا تو سہی کیا ملا تجھے
مجھ سے میرا گھر میرا جہان چھین کر
دولت ، شہر ت ، رشتے، ارمان چھین کر
موت لے گئی کسی کی پہچان چھین کر
رضی میں ڈھونڈتا ہوں اسکو جو ہنس کے لے جائے
مجھ سے میرے درد کی دوکان چھین کر Rizwan Rabassum Razzi
وہ تڑپ رہا ہے مجھ سے یہ سامان چھین کر
اسے سونے نہیں دیتی ہیں میری آہ و زاریاں
وہ خوش کہاں ہے خود میری مسکان چھین کر
اہل جفاء بتا تو سہی کیا ملا تجھے
مجھ سے میرا گھر میرا جہان چھین کر
دولت ، شہر ت ، رشتے، ارمان چھین کر
موت لے گئی کسی کی پہچان چھین کر
رضی میں ڈھونڈتا ہوں اسکو جو ہنس کے لے جائے
مجھ سے میرے درد کی دوکان چھین کر Rizwan Rabassum Razzi
دل کو غم کا سکون ٹھہرا دل کو غم کا سکون ٹھہرا
تجھے دیکھنا ہی جنون ٹھہرا
ہر شخص تیری ادا کا قائل
ہر شخص تیرا ممنون ٹھہرا
نہ قید کرے نہ رہا کرے
یہ عشق عجب ہی قانون ٹھہرا
جدایوں کے موسم میں اول
اگست،جولائی اور جون ٹھہرا
مجھ کو پڑھنا آساں نہیں میں
ہر حرف مضمون ٹھہرا
محبت میں رضی جو بانجھ ہو
وہ شخص بڑا ہی ملعون ٹھہرا Rizwan Tabassum Razzi
تجھے دیکھنا ہی جنون ٹھہرا
ہر شخص تیری ادا کا قائل
ہر شخص تیرا ممنون ٹھہرا
نہ قید کرے نہ رہا کرے
یہ عشق عجب ہی قانون ٹھہرا
جدایوں کے موسم میں اول
اگست،جولائی اور جون ٹھہرا
مجھ کو پڑھنا آساں نہیں میں
ہر حرف مضمون ٹھہرا
محبت میں رضی جو بانجھ ہو
وہ شخص بڑا ہی ملعون ٹھہرا Rizwan Tabassum Razzi
میری زندگی تیرے نام ہو میری زندگی تیرے نام ہو
میری بندگی تیرے نام ہو
میری چاہتوں کے مہربان
میری ہر خوشی تیرے نام ہو
تجھے سوچنا تجھے دیکھنا
مجھے بس یہ ہی اک کام ہو
تیری ہر ادا پہ ہو جان فدا
تیری ہر نظر کو سلام ہو
میں ھنس کے پی لوں زھر بھی
جو تیرے ہاتھ کا جام ہو
اسے چاھنے میں ائے رضی
میری عمر یونہی تمام ہو
Rizwan Tabassum Razzi
میری بندگی تیرے نام ہو
میری چاہتوں کے مہربان
میری ہر خوشی تیرے نام ہو
تجھے سوچنا تجھے دیکھنا
مجھے بس یہ ہی اک کام ہو
تیری ہر ادا پہ ہو جان فدا
تیری ہر نظر کو سلام ہو
میں ھنس کے پی لوں زھر بھی
جو تیرے ہاتھ کا جام ہو
اسے چاھنے میں ائے رضی
میری عمر یونہی تمام ہو
Rizwan Tabassum Razzi