Poetries by Muhammad Usman Habib
جب بھی بولتا ہے تو کمال بولتا ہے جب بھی بولتا ہے تو کمال بولتا ہے
عجیب شخص ہے جو لازوال بولتا ہے
کبھی جو عشق کے رنگوں میں محو جھومتا ہے
وہ بولتا نہیں، اس کا دھمال بولتا ہے
کوئی بھی شخص بھلے کسی بات کرتا ہے
تو بڑھ کے بات سے اُس کا خیال بولتا ہے
کسی گرے ہوئے کو جب کوئی اٹھاتا ہے
تو اُس کے اِس عمل کو دل کمال بولتا ہے
کبھی شکاری کے نرغے میں آئیں چند پنچھی
تو ان کی قوتِ پرواز، جال بولتا ہے Muhammad Usman Habib
عجیب شخص ہے جو لازوال بولتا ہے
کبھی جو عشق کے رنگوں میں محو جھومتا ہے
وہ بولتا نہیں، اس کا دھمال بولتا ہے
کوئی بھی شخص بھلے کسی بات کرتا ہے
تو بڑھ کے بات سے اُس کا خیال بولتا ہے
کسی گرے ہوئے کو جب کوئی اٹھاتا ہے
تو اُس کے اِس عمل کو دل کمال بولتا ہے
کبھی شکاری کے نرغے میں آئیں چند پنچھی
تو ان کی قوتِ پرواز، جال بولتا ہے Muhammad Usman Habib
تو موقع امن کو اک اور دینا چاہیے تھا۔۔۔۔! تجھے خود کو بڑا بن کر دکھانا چاہیے تھا۔۔!
ہمارے مسئلے کا حل بتانا چاہیے تھا۔۔۔۔۔!
اگر تم مستقل حل ڈھونڈنے نکلے ہوئے تھے
تو موقع امن کو اک اور دینا چاہیے تھا۔۔۔۔!
یہ کیوں بندوق کے بدلے میں بندوقیں اٹھا لیں؟
شرارہ، آگ سے کیونکر بجھانا چاہیے تھا۔۔؟!
Muhammad Usman Habib
ہمارے مسئلے کا حل بتانا چاہیے تھا۔۔۔۔۔!
اگر تم مستقل حل ڈھونڈنے نکلے ہوئے تھے
تو موقع امن کو اک اور دینا چاہیے تھا۔۔۔۔!
یہ کیوں بندوق کے بدلے میں بندوقیں اٹھا لیں؟
شرارہ، آگ سے کیونکر بجھانا چاہیے تھا۔۔؟!
Muhammad Usman Habib
یہ محبت یوں آسانی سے کہاں بھولتی ہے مجھ سے ہی پوچھ کہ اب مجھ پہ کیا گزرتی ہے
تیری ہی یاد جو ہر لمحہ گرد گھومتی ہے
دور کھڑے تکنا اُسے اور بس تکتے ہی جانا
ایسا کرنے سے یار بات کب سنورتی ہے
پھر تجھے کُھو کے نظر میری ہوئی یوں پاگل
کہ ہر اک نقش میں بس نقش تیرا ڈھونڈتی ہے
کافی تاخیر سے سمجھا تجھے اُلفت ہی نہ تھی
یہ محبت یوں آسانی سے کہاں بھولتی ہے
میں ہوں حیران کیوں اُلفت اُسے کہتے نہیں تم
جب تکلیف میں بھی ماں تمھیں جھولا جھو لتی ہے
اِس محبت پہ فقط شعر، اور اُدھر پوری غزل
ظاہر اس سے بھی میاں ہوتی تیری منصفی ہے Muhammad Usman Habib
تیری ہی یاد جو ہر لمحہ گرد گھومتی ہے
دور کھڑے تکنا اُسے اور بس تکتے ہی جانا
ایسا کرنے سے یار بات کب سنورتی ہے
پھر تجھے کُھو کے نظر میری ہوئی یوں پاگل
کہ ہر اک نقش میں بس نقش تیرا ڈھونڈتی ہے
کافی تاخیر سے سمجھا تجھے اُلفت ہی نہ تھی
یہ محبت یوں آسانی سے کہاں بھولتی ہے
میں ہوں حیران کیوں اُلفت اُسے کہتے نہیں تم
جب تکلیف میں بھی ماں تمھیں جھولا جھو لتی ہے
اِس محبت پہ فقط شعر، اور اُدھر پوری غزل
ظاہر اس سے بھی میاں ہوتی تیری منصفی ہے Muhammad Usman Habib
تو ہے محفوظ تیری ماں کی دعاؤں کے عوض عشق تیرا تو سمندر سے بھی گہرا ہے میاں
دل تیرا ایسے میں دریا تو نہیں ہو سکتا
ہے ملوث یہاں ہر حال میں اِک آتشِ عشق
اور لوگوں نے یوں جلایا تو نہیں ہو سکتا
اس کو ڈھونڈنے تو کہیں درد کے صحراؤں کے بیچ
گھر سے نامید نکلا تو نہیں ہو سکتا
بھولا بیٹھا ہے مجھے اس طرح مدت سے وہ شخص
اس قدر مجھ سے بیگانہ تو نہیں ہو سکتا
تو ہے محفوظ تیری ماں کی دعاؤں کے عوض
تیرے سر پہ بُرا سایہ تو نہیں ہو سکتا Muhammad Usman Habib
دل تیرا ایسے میں دریا تو نہیں ہو سکتا
ہے ملوث یہاں ہر حال میں اِک آتشِ عشق
اور لوگوں نے یوں جلایا تو نہیں ہو سکتا
اس کو ڈھونڈنے تو کہیں درد کے صحراؤں کے بیچ
گھر سے نامید نکلا تو نہیں ہو سکتا
بھولا بیٹھا ہے مجھے اس طرح مدت سے وہ شخص
اس قدر مجھ سے بیگانہ تو نہیں ہو سکتا
تو ہے محفوظ تیری ماں کی دعاؤں کے عوض
تیرے سر پہ بُرا سایہ تو نہیں ہو سکتا Muhammad Usman Habib
تجھ بن اب میرا گزارا تو نہیں ہو سکتا تجھ بن اب میرا گزارا تو نہیں ہو سکتا
زیست کا اور سہارا تو نہیں ہو سکتا
تم جو چاہو تو بھلا دو، یہ مگر دھیان رہے
جو یقیں ٹوٹا، دوبارا تو نہیں ہو سکتا
زر پرستی کا تو عالم ہے کہ اب دیکھیے خود
وفا لیے ہی۔۔۔ گزارا تو نہیں ہو سکتا
ابھی سے حوصلہ ہارے ہوئے بیٹھے ہو میاں
کوئی فرہاد یوں ہارا تو نہیں ہو سکتا
دُور مجھ سے مجھے کر ڈالا تیرے شکوؤں نے
معتبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اور خسارا تو نہیں ہو سکتا
اختلاف آپ تو کر سکتے ہیں سو بار مگر
حقیقت سے یوں کنارا تو نہیں ہو سکتا
عالمِ ہجر میں دیکھو تو سہی وہ انا پرست
ڈوب سکتا ہے ابھارا تو نہیں ہو سکتا
میں ہی تو پہلی محبت ہوں دراصل اُس کی
کوئی اُسے، مجھ سے پیارا تو نہیں ہو سکتا
چلتے چلتے تیری راہوں کی طرف ابنِ حبیب
ہے یہ مہتاب، کوئی ستارا تو نہیں ہو سکتا Muhammad Usman Habib
زیست کا اور سہارا تو نہیں ہو سکتا
تم جو چاہو تو بھلا دو، یہ مگر دھیان رہے
جو یقیں ٹوٹا، دوبارا تو نہیں ہو سکتا
زر پرستی کا تو عالم ہے کہ اب دیکھیے خود
وفا لیے ہی۔۔۔ گزارا تو نہیں ہو سکتا
ابھی سے حوصلہ ہارے ہوئے بیٹھے ہو میاں
کوئی فرہاد یوں ہارا تو نہیں ہو سکتا
دُور مجھ سے مجھے کر ڈالا تیرے شکوؤں نے
معتبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اور خسارا تو نہیں ہو سکتا
اختلاف آپ تو کر سکتے ہیں سو بار مگر
حقیقت سے یوں کنارا تو نہیں ہو سکتا
عالمِ ہجر میں دیکھو تو سہی وہ انا پرست
ڈوب سکتا ہے ابھارا تو نہیں ہو سکتا
میں ہی تو پہلی محبت ہوں دراصل اُس کی
کوئی اُسے، مجھ سے پیارا تو نہیں ہو سکتا
چلتے چلتے تیری راہوں کی طرف ابنِ حبیب
ہے یہ مہتاب، کوئی ستارا تو نہیں ہو سکتا Muhammad Usman Habib
جیا جائے عجز و انکساری و تحمل سے جیا جائے
روشن مستقبل کی امیدیں لیے جیا جائے
یہ جو مایوسی کے گہرے اور گنھے سے بادل ہیں
کیا ھی بہتر ہو جو اِن کو روند کے جیا جائے
یہ جری قوی سپاہی ، یہ نڈر اور جانثار
حوصلہ اِن کے لیے، اِن کے لیے جیا جائے
اے وطن کے جانشیں، تجھے وطن کا واسطہ
سر بلندیِ وطن کے واسطے جیا جائے
ٹمٹماتے ، جگمگاتے ، جھلملاتے یہ تارے
کیوں نہ منزل کی طرف اِن کو کیے جیا جائے
گر تجھے یقیں ہو خدائے زوالجلال پہ
پھر ہوا ، عثمانؔ جیسے بھی چلے جیا جائے Muhammad Usman Habib
روشن مستقبل کی امیدیں لیے جیا جائے
یہ جو مایوسی کے گہرے اور گنھے سے بادل ہیں
کیا ھی بہتر ہو جو اِن کو روند کے جیا جائے
یہ جری قوی سپاہی ، یہ نڈر اور جانثار
حوصلہ اِن کے لیے، اِن کے لیے جیا جائے
اے وطن کے جانشیں، تجھے وطن کا واسطہ
سر بلندیِ وطن کے واسطے جیا جائے
ٹمٹماتے ، جگمگاتے ، جھلملاتے یہ تارے
کیوں نہ منزل کی طرف اِن کو کیے جیا جائے
گر تجھے یقیں ہو خدائے زوالجلال پہ
پھر ہوا ، عثمانؔ جیسے بھی چلے جیا جائے Muhammad Usman Habib
بات نکلے گی تو پھر دُور تَلَک جائے گی بات نکلے گی تو پھر دُور تَلَک جائے گی
لوگ بے وجہ اُداسی کا سبب پوچھیں گے
یہ بھی پوچھیں گے کہ تُم اتنی پریشاں کیوں ہو؟
اُنگلیاں اُٹھیں گی سُوکھے ہوئے بالوں کی طرف
اِک نظر دیکھیں گے گُزرے ہوئے سالوں کی طرف
چُوڑیوں پر بھی کئی طنز کئے جائیں گے
کانپتے ہاتھوں پہ بھی فقرے کسے جائیں گے
لوگ ظالِم ہیں ہر اِک بات کا طعنہ دیں گے
باتوں باتوں میں میرا ذِکر بھی لے آئیں گے
اُن کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لینا
ورنہ چہرے کہ تاثُّر سے سمجھ جائیں گے
چاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا اُن سے
میرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا اُن سے
بات نکلے گی تو پھر دُور تَلَک جائے گی Muhammad Usman Habib
لوگ بے وجہ اُداسی کا سبب پوچھیں گے
یہ بھی پوچھیں گے کہ تُم اتنی پریشاں کیوں ہو؟
اُنگلیاں اُٹھیں گی سُوکھے ہوئے بالوں کی طرف
اِک نظر دیکھیں گے گُزرے ہوئے سالوں کی طرف
چُوڑیوں پر بھی کئی طنز کئے جائیں گے
کانپتے ہاتھوں پہ بھی فقرے کسے جائیں گے
لوگ ظالِم ہیں ہر اِک بات کا طعنہ دیں گے
باتوں باتوں میں میرا ذِکر بھی لے آئیں گے
اُن کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لینا
ورنہ چہرے کہ تاثُّر سے سمجھ جائیں گے
چاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا اُن سے
میرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا اُن سے
بات نکلے گی تو پھر دُور تَلَک جائے گی Muhammad Usman Habib
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو
بدن مرا سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے
میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے
وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا
جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے
وہ میرا دوست ہے سارے جہاںکو ہے معلوم
دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے
میں اپنی ذات میں نیلام ہورہا ہوں قتیل
غمِ حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے
Muhammad Usman Habib
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو
بدن مرا سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے
میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے
وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا
جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے
وہ میرا دوست ہے سارے جہاںکو ہے معلوم
دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے
میں اپنی ذات میں نیلام ہورہا ہوں قتیل
غمِ حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے
Muhammad Usman Habib
بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
صحرا میرا چہرہ ہے، سمندر تیری آنکھیں
پھر کون بھلا دادِ تبسّم اُنہیں دے گا؟
روئیں گی بہت مجھ سے بِچھڑ کر تیری آنکھیں
خالی جو ہوئی شامِ غریباں کی ہتھیلی
کیا کیا نہ لُٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں
بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دِل میں اُتر کر تیری آنکھیں
اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مِٹتا
بِھیگی ہوئی اِک شام کا منظر، تیری آنکھیں
ممکن ہو تو اِک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اَوڑھ نہ لیں خواب کی چادر، تیری آنکھیں
میں سنگ صِفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں
شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تیری آنکھیں
یُوں دیکھتے رہنا اُسے اچھّا نہیں محسن
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھّر تیری آنکھیں
Muhammad Usman Habib
صحرا میرا چہرہ ہے، سمندر تیری آنکھیں
پھر کون بھلا دادِ تبسّم اُنہیں دے گا؟
روئیں گی بہت مجھ سے بِچھڑ کر تیری آنکھیں
خالی جو ہوئی شامِ غریباں کی ہتھیلی
کیا کیا نہ لُٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں
بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دِل میں اُتر کر تیری آنکھیں
اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مِٹتا
بِھیگی ہوئی اِک شام کا منظر، تیری آنکھیں
ممکن ہو تو اِک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اَوڑھ نہ لیں خواب کی چادر، تیری آنکھیں
میں سنگ صِفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں
شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تیری آنکھیں
یُوں دیکھتے رہنا اُسے اچھّا نہیں محسن
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھّر تیری آنکھیں
Muhammad Usman Habib
پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
سکوتِ مرگ طاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں
ہمیں پر رات بھاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا
یہی قسمت ہماری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
تمہیں کیا! آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا
یہ بازی ہم نے ہاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
کہے جاتے ہو رو رو کر ہمارا حال دنیا سے
یہ کیسی رازداری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
ہمیں بھی نیند آجائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
Muhammad Usman Habib
سکوتِ مرگ طاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں
ہمیں پر رات بھاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا
یہی قسمت ہماری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
تمہیں کیا! آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا
یہ بازی ہم نے ہاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
کہے جاتے ہو رو رو کر ہمارا حال دنیا سے
یہ کیسی رازداری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
ہمیں بھی نیند آجائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
Muhammad Usman Habib
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ
خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈتی ہے ہردم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ
وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ
وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ
وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ
وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
تری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ
Muhammad Usman Habib
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ
خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈتی ہے ہردم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ
وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ
وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ
وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ
وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
تری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ
Muhammad Usman Habib