بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
Poet: محسن نقوی By: Muhammad Usman Habib, Sadiqabadبھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
صحرا میرا چہرہ ہے، سمندر تیری آنکھیں
پھر کون بھلا دادِ تبسّم اُنہیں دے گا؟
روئیں گی بہت مجھ سے بِچھڑ کر تیری آنکھیں
خالی جو ہوئی شامِ غریباں کی ہتھیلی
کیا کیا نہ لُٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں
بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دِل میں اُتر کر تیری آنکھیں
اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مِٹتا
بِھیگی ہوئی اِک شام کا منظر، تیری آنکھیں
ممکن ہو تو اِک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اَوڑھ نہ لیں خواب کی چادر، تیری آنکھیں
میں سنگ صِفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں
شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تیری آنکھیں
یُوں دیکھتے رہنا اُسے اچھّا نہیں محسن
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھّر تیری آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






