تجھ بن اب میرا گزارا تو نہیں ہو سکتا
Poet: عثمان حبیب By: Muhammad Usman Habib, Sadiqabadتجھ بن اب میرا گزارا تو نہیں ہو سکتا
زیست کا اور سہارا تو نہیں ہو سکتا
تم جو چاہو تو بھلا دو، یہ مگر دھیان رہے
جو یقیں ٹوٹا، دوبارا تو نہیں ہو سکتا
زر پرستی کا تو عالم ہے کہ اب دیکھیے خود
وفا لیے ہی۔۔۔ گزارا تو نہیں ہو سکتا
ابھی سے حوصلہ ہارے ہوئے بیٹھے ہو میاں
کوئی فرہاد یوں ہارا تو نہیں ہو سکتا
دُور مجھ سے مجھے کر ڈالا تیرے شکوؤں نے
معتبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اور خسارا تو نہیں ہو سکتا
اختلاف آپ تو کر سکتے ہیں سو بار مگر
حقیقت سے یوں کنارا تو نہیں ہو سکتا
عالمِ ہجر میں دیکھو تو سہی وہ انا پرست
ڈوب سکتا ہے ابھارا تو نہیں ہو سکتا
میں ہی تو پہلی محبت ہوں دراصل اُس کی
کوئی اُسے، مجھ سے پیارا تو نہیں ہو سکتا
چلتے چلتے تیری راہوں کی طرف ابنِ حبیب
ہے یہ مہتاب، کوئی ستارا تو نہیں ہو سکتا
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






