Na Koi Subha Sakoon Ka Hay
Poet: Nadeem Ahmed Nadeem By: Muhammad Nadeem, KarachiNa Koi Subha Sakoon Ka Hay Na Koi Sham Khushnuma Sa Hay
Hr Ek Shay Jo Manzar Me Hay Zameen Ki Apni Kasis E Saqal Me Hay
Kion Aaj Insan Khoon Khahr Ho Gaya Hay.. Nadeem..?
Ey Janwar Aaj Jo Shareef Ul Nafs Insan Ka Paykar Ho Gaya Hay
Ab Ey Roshni Na Rahi... Teri Bedari Ka Uzar Or
Ab Andhyri Raat Bhi Na Rahi.... Teri Pur Sakoon Neend Ka Uzar
Tu Alam E Neend.. Khowabon Me Bhi Chal Parta Hay
Be Hanggam Batain Sary Aam Karta Phirta Hay
Teri Shanakht Na Rahi Na Tera Mehfooz Hafza Raha
Na Teri Ankhon Me Baseerat Rahi Na Tery Amal Me Koi Ashraf Ul Seerat Ka Nishan Raha
Na Gharq Ho Jay Dunya To Keya Ho....Nadeem..
Jis Samundar K Sahil Na Ho Us Samundar Me Gharq Na Ho Jay To Keya Ho
Jis Dunya Me Insani Qadar Na Ho
Wo Dunya Doob Na Jay To Keya Ho
Aaj Zakhmon Se Choor Malala Ho Gai Hay.. To Kehty Hain Log..To Kia Ho
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






