مریضِ عشق ہے بیمار بہت
چارہ گر کا انتظار بہت
خوشی محلوں میں اب میسر کہاں
مزاجِ شاہ ہے دل آزار بہت
شادمان ہی شادمان بستے
پچھلے وقتوں کے غار بہت
فقط ٹوٹے محبت کے نام پر
سرخ پھولوں کے ہار بہت
اک انا کی دہلیز پر
تنہا دیکھے ہیں سنسار بہت
کچھ نہ پسند مورتیوں نے کہا
صاحبِ زر ہو دست تو بازار بہت
اخلاص کا وہ قاتل جو کہے
صاف جملہ پسں دیوار بہت
بچھڑ کے اب تک زندہ ہو
بندہء پرور ہے بیزار بہت
رو رہا ہے پستیوں میں
جس کے اونچے تھے معیار بہت
ہماری خموشیاں تمہاری تلاشیاں "عدن"
دونوں ہیں پر اسرار بہت