Pyar Kahaani
Poet: Tauseef Ahmed Kashaaf By: SHER, BahawalpurJab Tum Milay Thay Tu Aankhon Ne
Chupkay Se Dil Se Kaha Tha Zindgi Mil Gayee
Jab Tum Milay Thay Tu Tapta Mosam Bahaar Hoowa Tha
Her Shay Pe Jesay Nikhaar Hoowa Tha
Chaand Ne Chhup K Taaron Ne Jhuk K
Mujh Se Kaha Tha Pyar Hoowa Hay
Main Ne Kaha Tha Haan Pyar Hoowa Hay
Pyar Hoowa Tha Aisa Pyar Hoowa Tha
K Jeewan Sara Mehak Utha Tha
Soona Aangann Soona Rasta Mehak Utha Tha
Her Ik Shajarr Aur Boota Boota
Patta Patta Daali Daali Meray Sangg
Lehakk Utha Tha Behakk Utha Tha
Behakk Utha Tha Saara Aalim Saari Dunia
Meri Hoe Thi Jesay Nayee Bani Thi
Sirf Meray Liay Sirf Teray Liay
Per Abb Kai Hay Jo Tu Juda Hay
Aankhayn Saawann Dil Main Pyaas
Zindgy Udaas Roothi Roothi
Chaand Bhi Tanha Main Bhi Tanha
Sowg Main Taaray Sowg Main Aangann
Soona Rasta Khamosh Shajarr
Boota Boota Patta Patta Daali Daali
Khazaan Main Nahaay Sowg Main Aay
Ab Tu Bahaar Bhi Aansoo Bahaay
Meray Gallay Lagg K Teray Gamm Main
Weraan Main Bhi Weraan Dunia
Jo Tu Juda Hay Dekho Sabb Kuchh Badal Gya Hay
Pehlay Se Bhi Badd Tar Howa Hay Ab Tu Aas Bhi Baaki Nahi Hay
Meri Pyas Tu Baaki Hay Per Tera Milna Tu Mumkin Nahi Na
Jeewann Ka Khilna Mumkin Nahi Na
Khushion Ka Milna Mumkin Nahi Na
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






