Poetries by RAAZ
آداب الفت راز تشنگی کا آپ
ساز زندگی کا آپ
نشیب بیگانگی کا آپ
فراز دیوانگی کا آُُپ
چاہت آپ سے بے شمار
دل پہ آپ ہی کا اختیار
لب پہ نام آپ کا
آنکھوں میں آپ ہی کا ہے خمار
دن آپ کے تصور میں ڈھلے
سانس آپ کے لیے ہی چلے
نیند میں خواب آپ کے
بیداری میں سپنے ملاپ کے
صبح آپ کے وصل کا پیغام
شام آپ کے آنے کا اہتمام
تنہائی میں خیال آپ کا
دکھے ہجوم میں جمال آپ کا
سانسوں میں خوشبو آپ کی
باتوں میں گفتگو آپ کی
پھولوں میں رنگ آُ پ کا
بہاروں میں سنگ آپ کا
آپ محبت کی تاثیر ہیں
آپ واللہ بے نظیر ہیں
اُپ کتاب عشق کے عنوان میں
آپ ہر لمحہ دھیان میں
آپ محبت کی ابتدا
آپ چاہت کی انتہا
آپ میری جستجو کا آغاز
آپ حسن سے ہیں سرفراز
آپ میری آرزو کا انجام
آپ عاشقی کا احترام
زندگی کی آپ مسکان
جینے کا آپ سامان
آپ خوشی کا کوئی حسین پل
غم کی آپ ہلچل
آپ خوشی کے بھیس میں
میرے دل کے دیس میں
چاہت بن کر رہتے ہیں
اشک بن کر بہتے ہیں
مجھے فقط یہی کہنا ہے
مجھے آپ کی چاہت میں رہنا ہے
RAAZ BHANEWALI
ساز زندگی کا آپ
نشیب بیگانگی کا آپ
فراز دیوانگی کا آُُپ
چاہت آپ سے بے شمار
دل پہ آپ ہی کا اختیار
لب پہ نام آپ کا
آنکھوں میں آپ ہی کا ہے خمار
دن آپ کے تصور میں ڈھلے
سانس آپ کے لیے ہی چلے
نیند میں خواب آپ کے
بیداری میں سپنے ملاپ کے
صبح آپ کے وصل کا پیغام
شام آپ کے آنے کا اہتمام
تنہائی میں خیال آپ کا
دکھے ہجوم میں جمال آپ کا
سانسوں میں خوشبو آپ کی
باتوں میں گفتگو آپ کی
پھولوں میں رنگ آُ پ کا
بہاروں میں سنگ آپ کا
آپ محبت کی تاثیر ہیں
آپ واللہ بے نظیر ہیں
اُپ کتاب عشق کے عنوان میں
آپ ہر لمحہ دھیان میں
آپ محبت کی ابتدا
آپ چاہت کی انتہا
آپ میری جستجو کا آغاز
آپ حسن سے ہیں سرفراز
آپ میری آرزو کا انجام
آپ عاشقی کا احترام
زندگی کی آپ مسکان
جینے کا آپ سامان
آپ خوشی کا کوئی حسین پل
غم کی آپ ہلچل
آپ خوشی کے بھیس میں
میرے دل کے دیس میں
چاہت بن کر رہتے ہیں
اشک بن کر بہتے ہیں
مجھے فقط یہی کہنا ہے
مجھے آپ کی چاہت میں رہنا ہے
RAAZ BHANEWALI
عرضی اداس نگاہ جنوب کی جانب اتھتی ہے
کاش دیدار ہو تمہارا
افسردگی سے کہتی ھے
مگر تم ڈوبے سورج کی طرح
نظر نہیں آتے
احساس محبت کو جاناں
یوں بھلا نہیں دیتے
تسلیم کہ کچھ تنہائیاں
قدرتی ھوتی ہیں
مگر جان بوجھ کر ہمدم
تنہائیوں کی سزا نہیں دیتے
جتنے چاہے نفرتوں بھرے الفاظ دے
کوئی شکوہ نہیں جاناں تم سے
مگر اک عرضی ہے
فقط اک لفظ محبت نواز دے RAAZ BHANEWALI
کاش دیدار ہو تمہارا
افسردگی سے کہتی ھے
مگر تم ڈوبے سورج کی طرح
نظر نہیں آتے
احساس محبت کو جاناں
یوں بھلا نہیں دیتے
تسلیم کہ کچھ تنہائیاں
قدرتی ھوتی ہیں
مگر جان بوجھ کر ہمدم
تنہائیوں کی سزا نہیں دیتے
جتنے چاہے نفرتوں بھرے الفاظ دے
کوئی شکوہ نہیں جاناں تم سے
مگر اک عرضی ہے
فقط اک لفظ محبت نواز دے RAAZ BHANEWALI
دیدار آخری کیا اوپر والے نے لکھی ھے میری تقدیر زبردست
کر کے رکھ دیا زمانے نے مجھے دلگیر زبردست
انسان اپنی ہی شکل دیکھ کر ہو جاتا ھے حیران
غم کھیچتے ہیں جب اس کی تصویر زبردست
دیکھ تمہارے عشق نے کیا سلوک کیا ھمارے ساتھ
پہلے بنایا دیوانہ پاگل پھر کر دیا فقیر زبردست
اے رانجھے آکے کر لے پیارے دیدار آخری
لگ رہی ھے آج کفن میں تیری ہیر زبردست
اس کی آنکھوں سے بھی امتیاز ہو گئے اشک جاری
اپنی غزل کی میں نے لکھی تھی تحریر زبردست RAAZ BHANEWALI
کر کے رکھ دیا زمانے نے مجھے دلگیر زبردست
انسان اپنی ہی شکل دیکھ کر ہو جاتا ھے حیران
غم کھیچتے ہیں جب اس کی تصویر زبردست
دیکھ تمہارے عشق نے کیا سلوک کیا ھمارے ساتھ
پہلے بنایا دیوانہ پاگل پھر کر دیا فقیر زبردست
اے رانجھے آکے کر لے پیارے دیدار آخری
لگ رہی ھے آج کفن میں تیری ہیر زبردست
اس کی آنکھوں سے بھی امتیاز ہو گئے اشک جاری
اپنی غزل کی میں نے لکھی تھی تحریر زبردست RAAZ BHANEWALI
عکس تم سے بچھڑا تو جیتے جی مر جاؤں گا
ریزہ ریزہ ہو کے زمانے میں بکھر جاؤں گا
اک بار ہی کر لے اگر کلام وہ مجھ سے
میں جتنا بھی بگھڑا ہوں سدھر جاؤں گا
ابھی تک تو اس کے ملنے کی امید بندھی ہے
یہ آس بھی نہ رہی تو کدھر جاؤں گا
مجھے صرف میرے یار کا دیدار کر لینے دو
اس کے بعد کانٹوں پہ بھی کہو گے تو ٹھہر جاؤں گا
اگر تقدیر کی بے رحمی نے اسے چھپا لیا مجھ سے
فقیر بن کے تلاش یار میں گھر گھر جاؤں گا
وہ چاہ کر بھی امتیاز نہ بھلا سکے گی مجھے
میں اسی کا عکس بن کے اس میں اتر جاؤں گا RAAZ BHANEWALI
ریزہ ریزہ ہو کے زمانے میں بکھر جاؤں گا
اک بار ہی کر لے اگر کلام وہ مجھ سے
میں جتنا بھی بگھڑا ہوں سدھر جاؤں گا
ابھی تک تو اس کے ملنے کی امید بندھی ہے
یہ آس بھی نہ رہی تو کدھر جاؤں گا
مجھے صرف میرے یار کا دیدار کر لینے دو
اس کے بعد کانٹوں پہ بھی کہو گے تو ٹھہر جاؤں گا
اگر تقدیر کی بے رحمی نے اسے چھپا لیا مجھ سے
فقیر بن کے تلاش یار میں گھر گھر جاؤں گا
وہ چاہ کر بھی امتیاز نہ بھلا سکے گی مجھے
میں اسی کا عکس بن کے اس میں اتر جاؤں گا RAAZ BHANEWALI
میری محبت انتظار میں ہے اب تو کردے ختم جدائی میری محبت انتظار میں ہے
اے خدا سن لے میری دہائی میری محبت انتظار میں ہے
چھلک پڑے اشک آنکھوں سے غمزدہ ہوگئی ساری محفل
جب یہ داستاں میں نے سنائی میری محبت انتظار میں ہے
کوئی راہی نہیں ہے اس راہ کا جو اسے دے میرا سندیسہ
تو پیغام میرا لے جا اے پروائی میری محبت انتظار میں ہے
میں تو تھک گیا ہوں یارو مانگ مانگ کر دعائیں
نہ جانے کہاں تک رہے گی یہ جدائی میری محبت انتظار میں ہے
اب اور نہیں گنجائش اے زمانے والو مجھ میں صبر کرنے کی
خدارا دے دو مجھے رہائی میری محبت انتظار میں ہے
امتیاز میری بھی آنکھ ہوگئی نم سن کے اس کی فریاد
رو رو کے گا رہا تھا اک سودائی میری محبت انتظار میں ہے RAAZ BHANEWALI
اے خدا سن لے میری دہائی میری محبت انتظار میں ہے
چھلک پڑے اشک آنکھوں سے غمزدہ ہوگئی ساری محفل
جب یہ داستاں میں نے سنائی میری محبت انتظار میں ہے
کوئی راہی نہیں ہے اس راہ کا جو اسے دے میرا سندیسہ
تو پیغام میرا لے جا اے پروائی میری محبت انتظار میں ہے
میں تو تھک گیا ہوں یارو مانگ مانگ کر دعائیں
نہ جانے کہاں تک رہے گی یہ جدائی میری محبت انتظار میں ہے
اب اور نہیں گنجائش اے زمانے والو مجھ میں صبر کرنے کی
خدارا دے دو مجھے رہائی میری محبت انتظار میں ہے
امتیاز میری بھی آنکھ ہوگئی نم سن کے اس کی فریاد
رو رو کے گا رہا تھا اک سودائی میری محبت انتظار میں ہے RAAZ BHANEWALI
نہ ملا تو مجھ کو آج بھی جب چھو کے گزرتی ہے ہوا تیرے شہر کی
بہت یاد آتی ہے مجھ کو بے وفا تیرے شہر کی
٪
اک گلہ تم سے ہے اک گلہ تیرے گھر والوں سے
ہماری جدائی میں نہیں کوئی خطا تیرے شہر کی
٪
نہ کوئی پیغام آیا نہ کوئی سندیسہ مدت سے
شاید خفا ہوگئی ہے مجھ سے صبا تیرے شہر کی
٪
نہ ملا تو مجھ کو نہ میں ہی ہو سکا تیرا
ہماری محبت کو لگ گئی شاید بددعا تیرے شہر کی
٪
جہاں جہاں لگے میرے محبوب تیرے قدموں کے نشاں
جنت سے کم نہیں ہے وہ جگہ تیرے شہر کی
٪
تیری دہلیز تک نہ جا سکا اپنے پیروں پہ چل کر
امتیاز سدا یاد رکھے گا سزا تیرے شہر کی RAAZ BHANEWALI
بہت یاد آتی ہے مجھ کو بے وفا تیرے شہر کی
٪
اک گلہ تم سے ہے اک گلہ تیرے گھر والوں سے
ہماری جدائی میں نہیں کوئی خطا تیرے شہر کی
٪
نہ کوئی پیغام آیا نہ کوئی سندیسہ مدت سے
شاید خفا ہوگئی ہے مجھ سے صبا تیرے شہر کی
٪
نہ ملا تو مجھ کو نہ میں ہی ہو سکا تیرا
ہماری محبت کو لگ گئی شاید بددعا تیرے شہر کی
٪
جہاں جہاں لگے میرے محبوب تیرے قدموں کے نشاں
جنت سے کم نہیں ہے وہ جگہ تیرے شہر کی
٪
تیری دہلیز تک نہ جا سکا اپنے پیروں پہ چل کر
امتیاز سدا یاد رکھے گا سزا تیرے شہر کی RAAZ BHANEWALI
عجب عشق کے ہیں انداز۔۔۔۔۔۔۔ تہرے شہر میں نہیں ہے
پیارے اب گزارہ
تو اک ہمیں رقیب سمجھے
سارا شہر دوست تمہارا
تہرے عشق کے پجاری
کریں گے پوجا اب خدا کی
ہم با ایماں مریں گے
نہ سامنے آنا خدارا
تیرے ہزاروں ہیں دیوانے
تیرے ان گنت ہیں عاشق
تیری نظروں میں آتے ہم
کہاں مقدر تھا ہمارا
عجب عشق کے ہیں انداز
کہ اس عشق میں پڑ کر
انہیں زندگی ہے پیاری
ہمیں موت ہے گوارہ
عشق سمندر میں جو بھی آئے
بے موت مارا جائے
اندھا ہے یہ عشق کا سمندر
لا محدود اور بے کنارہ RAAZ BHANEWALI
پیارے اب گزارہ
تو اک ہمیں رقیب سمجھے
سارا شہر دوست تمہارا
تہرے عشق کے پجاری
کریں گے پوجا اب خدا کی
ہم با ایماں مریں گے
نہ سامنے آنا خدارا
تیرے ہزاروں ہیں دیوانے
تیرے ان گنت ہیں عاشق
تیری نظروں میں آتے ہم
کہاں مقدر تھا ہمارا
عجب عشق کے ہیں انداز
کہ اس عشق میں پڑ کر
انہیں زندگی ہے پیاری
ہمیں موت ہے گوارہ
عشق سمندر میں جو بھی آئے
بے موت مارا جائے
اندھا ہے یہ عشق کا سمندر
لا محدود اور بے کنارہ RAAZ BHANEWALI
رن مرید شوہر کی فون کال میری بیگم صاحبہ دا کیہ حال ہے سس امی جی
ایہہ سپیشل ان کے لیے کال ہے سس امی جی
۔
موبائل ذرا اوہناں نوں بلا کے پھڑا دو پلیز؟
اواز سنن لئی میرا ھندا پیا برا حال ہے سس امی جی
۔
مجھے رات رات بھر بیگم کے بن آؤندی نہیں ہے نیندر
رو رو کے میرا مونہہ ھو گیا لا لو لال ہے سس امی جی
۔
آپ کہیں تو وہاں آ کے پے جاؤں بیگم کے پیریں
ٹیل می تواڈا ایہدے بارے کی خیال ہے سس امی جی
۔
اج توں بعد میں نہ کبھی لڑوں گا ان کے ساتھ
تصویر بیگم دی تے ہتھ رکھ کے کھادی گال ہے سس امی جی
۔
چھیتی کرو بلاؤ بیگم نوں اینی دیر نوں میں ویکھ لاں
مجھے لگتا ہے سڑ گئی چلہے تے دال ہے سس امی جی RAAZ BHANEWALI
ایہہ سپیشل ان کے لیے کال ہے سس امی جی
۔
موبائل ذرا اوہناں نوں بلا کے پھڑا دو پلیز؟
اواز سنن لئی میرا ھندا پیا برا حال ہے سس امی جی
۔
مجھے رات رات بھر بیگم کے بن آؤندی نہیں ہے نیندر
رو رو کے میرا مونہہ ھو گیا لا لو لال ہے سس امی جی
۔
آپ کہیں تو وہاں آ کے پے جاؤں بیگم کے پیریں
ٹیل می تواڈا ایہدے بارے کی خیال ہے سس امی جی
۔
اج توں بعد میں نہ کبھی لڑوں گا ان کے ساتھ
تصویر بیگم دی تے ہتھ رکھ کے کھادی گال ہے سس امی جی
۔
چھیتی کرو بلاؤ بیگم نوں اینی دیر نوں میں ویکھ لاں
مجھے لگتا ہے سڑ گئی چلہے تے دال ہے سس امی جی RAAZ BHANEWALI
ویلنٹائن ڈے۔۔ کل ویلنٹائن ڈے ہے چوداں فروری ہے
پھول کس کو دینا ہے سوچنا ضروری ہے
کوئی گفٹ شفٹ خرید لیں کوئی کلی شلی دیکھ لیں
کس طرف کو جانا ہے کوئی گلی شلی دیکھ لیں
اس شہر میں اپنا آنا جانا سرسری ہے
کل ویلنٹائن ڈے ہے چوداں فروری ہے
×
دیکھیں کیا رزلٹ اس امتحان میں آتا ہے
ہم ھی کہیں جاتے ہیں یا کوئی دوکان میں آتا ہے
مقدر پہ ڈیپینڈ ہے کہ کس کی ہری ھے
کل ویلنٹائن ڈے ہے چوداں فروری ہے
×
سوٹ دھلوا لیں نئے بوٹ پالش کر لیں
ایک دن پہلے ہی خود کو مالش کرلیں
ُپہلی باری ہے پہلی خوش خبری ہے
کل ویلنٹائن ڈے ہے چوداں فروری ہے
×
کل کیا کہنا ہے آج ہی سوچ لیں
پرسنیلٹی کی خاطر کرائے پہ کوئی کوچ لیں
سجنوں ذاتی تو اپنی قسمت مری ہے
کل ویلنٹائن ڈے ہے چوداں فروری ہے
×
گھومیں پھریں گے انجوائے خوب ہو کا
پہلو میں بیٹھا بیوتی فل محبوب ہوگا
محبوب کے لیے بچھائی خواہشوں کی دری ہے
کل ویلنٹائن ڈے ہے چوداں فروری ہے
RAAZ BHANEWALI
پھول کس کو دینا ہے سوچنا ضروری ہے
کوئی گفٹ شفٹ خرید لیں کوئی کلی شلی دیکھ لیں
کس طرف کو جانا ہے کوئی گلی شلی دیکھ لیں
اس شہر میں اپنا آنا جانا سرسری ہے
کل ویلنٹائن ڈے ہے چوداں فروری ہے
×
دیکھیں کیا رزلٹ اس امتحان میں آتا ہے
ہم ھی کہیں جاتے ہیں یا کوئی دوکان میں آتا ہے
مقدر پہ ڈیپینڈ ہے کہ کس کی ہری ھے
کل ویلنٹائن ڈے ہے چوداں فروری ہے
×
سوٹ دھلوا لیں نئے بوٹ پالش کر لیں
ایک دن پہلے ہی خود کو مالش کرلیں
ُپہلی باری ہے پہلی خوش خبری ہے
کل ویلنٹائن ڈے ہے چوداں فروری ہے
×
کل کیا کہنا ہے آج ہی سوچ لیں
پرسنیلٹی کی خاطر کرائے پہ کوئی کوچ لیں
سجنوں ذاتی تو اپنی قسمت مری ہے
کل ویلنٹائن ڈے ہے چوداں فروری ہے
×
گھومیں پھریں گے انجوائے خوب ہو کا
پہلو میں بیٹھا بیوتی فل محبوب ہوگا
محبوب کے لیے بچھائی خواہشوں کی دری ہے
کل ویلنٹائن ڈے ہے چوداں فروری ہے
RAAZ BHANEWALI
آج پھر چراغ جلا نہیں کہیں ٹک کر نہیں رہتا وہ ہواؤں کی طرح
بستی بستی گھومتا رہتا ہے گھٹاؤں کی طرح
میں نے جس شخص کیلئے رکھی ہیں وفائیں اپنی
وہ ہربار مجھے ملتا ہے بے وفاؤں کی طرح
اک تمہیں میری چاہت کا یقیں نہیں ہے ورنہ
میں تو تمہیں چاہتا ہوں مسجدوں، کلیساؤں کی طرح
میں تمہیں ملتا نہیں تمہاری بے رخی کے باعث
ورنہ تمہارا نام زباں پہ رہتا ہے دعاؤں کی طرح
آج پھر چراغ جلا نہیں اس کے گھر کے کونے میں
آج پھر مجھے یہ شب ملی ہے سزاؤں کی طرح
امتیاز ممکن تھا میں اسے بھلا دیتا لیکن
وہ میری ذات سے جڑا ہے ہتھیلی کی ریکھاؤں کی طرح RAAZ BHANEWALI
بستی بستی گھومتا رہتا ہے گھٹاؤں کی طرح
میں نے جس شخص کیلئے رکھی ہیں وفائیں اپنی
وہ ہربار مجھے ملتا ہے بے وفاؤں کی طرح
اک تمہیں میری چاہت کا یقیں نہیں ہے ورنہ
میں تو تمہیں چاہتا ہوں مسجدوں، کلیساؤں کی طرح
میں تمہیں ملتا نہیں تمہاری بے رخی کے باعث
ورنہ تمہارا نام زباں پہ رہتا ہے دعاؤں کی طرح
آج پھر چراغ جلا نہیں اس کے گھر کے کونے میں
آج پھر مجھے یہ شب ملی ہے سزاؤں کی طرح
امتیاز ممکن تھا میں اسے بھلا دیتا لیکن
وہ میری ذات سے جڑا ہے ہتھیلی کی ریکھاؤں کی طرح RAAZ BHANEWALI