عجب عشق کے ہیں انداز۔۔۔۔۔۔۔
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTتہرے شہر میں نہیں ہے
پیارے اب گزارہ
تو اک ہمیں رقیب سمجھے
سارا شہر دوست تمہارا
تہرے عشق کے پجاری
کریں گے پوجا اب خدا کی
ہم با ایماں مریں گے
نہ سامنے آنا خدارا
تیرے ہزاروں ہیں دیوانے
تیرے ان گنت ہیں عاشق
تیری نظروں میں آتے ہم
کہاں مقدر تھا ہمارا
عجب عشق کے ہیں انداز
کہ اس عشق میں پڑ کر
انہیں زندگی ہے پیاری
ہمیں موت ہے گوارہ
عشق سمندر میں جو بھی آئے
بے موت مارا جائے
اندھا ہے یہ عشق کا سمندر
لا محدود اور بے کنارہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






