آداب الفت
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTراز تشنگی کا آپ
ساز زندگی کا آپ
نشیب بیگانگی کا آپ
فراز دیوانگی کا آُُپ
چاہت آپ سے بے شمار
دل پہ آپ ہی کا اختیار
لب پہ نام آپ کا
آنکھوں میں آپ ہی کا ہے خمار
دن آپ کے تصور میں ڈھلے
سانس آپ کے لیے ہی چلے
نیند میں خواب آپ کے
بیداری میں سپنے ملاپ کے
صبح آپ کے وصل کا پیغام
شام آپ کے آنے کا اہتمام
تنہائی میں خیال آپ کا
دکھے ہجوم میں جمال آپ کا
سانسوں میں خوشبو آپ کی
باتوں میں گفتگو آپ کی
پھولوں میں رنگ آُ پ کا
بہاروں میں سنگ آپ کا
آپ محبت کی تاثیر ہیں
آپ واللہ بے نظیر ہیں
اُپ کتاب عشق کے عنوان میں
آپ ہر لمحہ دھیان میں
آپ محبت کی ابتدا
آپ چاہت کی انتہا
آپ میری جستجو کا آغاز
آپ حسن سے ہیں سرفراز
آپ میری آرزو کا انجام
آپ عاشقی کا احترام
زندگی کی آپ مسکان
جینے کا آپ سامان
آپ خوشی کا کوئی حسین پل
غم کی آپ ہلچل
آپ خوشی کے بھیس میں
میرے دل کے دیس میں
چاہت بن کر رہتے ہیں
اشک بن کر بہتے ہیں
مجھے فقط یہی کہنا ہے
مجھے آپ کی چاہت میں رہنا ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






