Poetries by sana ghori
گھر سے جاتے ہوئے اب ضروری ہے یہ
گھر سے جاتے ہوئے
چہرے اپنوں کے آنکھوں میں بھرلیجیے
سارے شکوے گِلے دور کر لیجیے
کچھ بھی دل میں نہ رکھیے ”کبھی“ کے لیے
یہ ”کبھی“ ہو نہ ہو
واپسی ہونہ ہو
سب کو بڑھ کر گلے سے لگالیجیے
ہو جو مہلت تو وعدے وفا کیجیے
ہاں، مگر اب نیا کوئی وعدہ نہ ہو
کل کے دامن میں کوئی ارادہ نہ ہو
کیا کریں گے اگر وقت زیادہ نہ ہو
اُس طرف گھر کی چوکھٹ کے، کس کو خبر
زندگی ہو نہ ہو
آپ کے گھر سے جانے کا منظر ہے جو
یہ جو منظر ہے نا پھر نہیں آئے گا
یہ جو منظر ہے آنکھوں میں کھب جائے گا
یہ جو منظر ہے سینے میں چبھ جائے گا
روح میں تیر بن کر اتر جائے گا
آج دہلیز پر وقت رک جائے گا
آج دہلیز پر وقت مرجائے گا
Sana Ghori
گھر سے جاتے ہوئے
چہرے اپنوں کے آنکھوں میں بھرلیجیے
سارے شکوے گِلے دور کر لیجیے
کچھ بھی دل میں نہ رکھیے ”کبھی“ کے لیے
یہ ”کبھی“ ہو نہ ہو
واپسی ہونہ ہو
سب کو بڑھ کر گلے سے لگالیجیے
ہو جو مہلت تو وعدے وفا کیجیے
ہاں، مگر اب نیا کوئی وعدہ نہ ہو
کل کے دامن میں کوئی ارادہ نہ ہو
کیا کریں گے اگر وقت زیادہ نہ ہو
اُس طرف گھر کی چوکھٹ کے، کس کو خبر
زندگی ہو نہ ہو
آپ کے گھر سے جانے کا منظر ہے جو
یہ جو منظر ہے نا پھر نہیں آئے گا
یہ جو منظر ہے آنکھوں میں کھب جائے گا
یہ جو منظر ہے سینے میں چبھ جائے گا
روح میں تیر بن کر اتر جائے گا
آج دہلیز پر وقت رک جائے گا
آج دہلیز پر وقت مرجائے گا
Sana Ghori
خواب کی موت رات میری آنکھوں میں
ایک خواب اُترا تھا
بادلوں کے سائے میں وادیاں تھیں پھولوں کی
خوشبوؤں کا جھونکا تھے
جھیل چاندنی کی تھی
اور دھنک کا راستہ تھا
اُس دھنک کے راستے پر
ہاتھ تھامے ہم دونوں
ساتھ ساتھ چلتے تھے
دن کی دھوپ نکلی تھی
خواب جل گیا میرا
راکھ سے بھری آنکھیں
جل گئیں میری آنکھیں
خواب یوں مرا میرا
مادرِ شکم ہی میں
کوئی بچہ مر جائے
گل کھلا بس اک لمحہ
اور پھر بکھر جائے
خواہشوں کے سینے میں
اپنے میں فن کر لوں گا
آرزو ں کا میں اپنی
خود گلا دبا دوں گا
سپنے مار ڈالوں گا
رات کو جنم لے کر میں
دن کو مرنے والے خوابوں کی
لاش ہاتھوں میں لئے
ٰیوں ہی مجھ چلنا ہے
Sana Ghori
ایک خواب اُترا تھا
بادلوں کے سائے میں وادیاں تھیں پھولوں کی
خوشبوؤں کا جھونکا تھے
جھیل چاندنی کی تھی
اور دھنک کا راستہ تھا
اُس دھنک کے راستے پر
ہاتھ تھامے ہم دونوں
ساتھ ساتھ چلتے تھے
دن کی دھوپ نکلی تھی
خواب جل گیا میرا
راکھ سے بھری آنکھیں
جل گئیں میری آنکھیں
خواب یوں مرا میرا
مادرِ شکم ہی میں
کوئی بچہ مر جائے
گل کھلا بس اک لمحہ
اور پھر بکھر جائے
خواہشوں کے سینے میں
اپنے میں فن کر لوں گا
آرزو ں کا میں اپنی
خود گلا دبا دوں گا
سپنے مار ڈالوں گا
رات کو جنم لے کر میں
دن کو مرنے والے خوابوں کی
لاش ہاتھوں میں لئے
ٰیوں ہی مجھ چلنا ہے
Sana Ghori
اب میری جان تو بخش دے۔۔۔۔۔ میرا مرض بھی تو ں سہی میرا طبیب بھی تو ں سہی
گر ہو سکے اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
سفر میر ا طویل تر ساتھ تیرا قلیل تر
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
وصل کی شب خواہش مگر تیرا ساتھ حوص مگر
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
اندر کہیں دنیا بسی تیرا وجود میری زندگی
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
تیرا ساتھ لگے مجھے بیڑیاں جیسے ہوں قفس کی سیڑھیاں
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
تجھ سے تعلق روح کا نہیں میرا جسم تیرا اسیر ہے
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
کیا گویائی کا جو میں نے فیصلہ تو سن میرے اے ہم سفر
یہ زبان میں کاٹ دے اب میری جان تو بخش دے Sana Ghori
گر ہو سکے اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
سفر میر ا طویل تر ساتھ تیرا قلیل تر
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
وصل کی شب خواہش مگر تیرا ساتھ حوص مگر
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
اندر کہیں دنیا بسی تیرا وجود میری زندگی
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
تیرا ساتھ لگے مجھے بیڑیاں جیسے ہوں قفس کی سیڑھیاں
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
تجھ سے تعلق روح کا نہیں میرا جسم تیرا اسیر ہے
گر ہو سکے تو اک کام کر اب میری جان تو بخش دے
کیا گویائی کا جو میں نے فیصلہ تو سن میرے اے ہم سفر
یہ زبان میں کاٹ دے اب میری جان تو بخش دے Sana Ghori
طبیبِ عشق اک نگہ ادھر طبیبِ عشق اک نگہ ادھر
ہو تسخیرِجان وبدن
اے سوزِالفت وتشریحِ ثنا کے دائی
سخاوتِ عثمانِ غنیؓ تجھ میں پائی
کر کچھ مداوا اے شریک ِ غم
کشکول دھرا ہے ہاتھ پر
سوالِ سائل ہے منتظر
نگاہ یاسیت سے بیاباں
بتا اے صاحب عقل! کہ تو ہے ہوش مند
ہے مال وزر نامعتبر
ہے جسم تو اِدھر، مگر ہے روح کدھر؟
بھٹک رہی وہ دربدر
تو ہی کچھ اس کی فکر کر
گُلوں کا پیرہن
مجھے دان کر
کہ خوشبو اٹھے جب جسم سے
تو لوٹ آئے روح ادھر
جو فنا کی سمت ہے رواں
کبھی اِس ڈگر، کبھی اُس ڈگر
چڑھے سیڑھیاں وہ عروج کی
مجھے ڈر لگے، اٹھے ہوک سی
کہیں چھو نہ لے وہ آسماں
کہیں چھو نہ لے وہ آسماں
Sana Ghori
ہو تسخیرِجان وبدن
اے سوزِالفت وتشریحِ ثنا کے دائی
سخاوتِ عثمانِ غنیؓ تجھ میں پائی
کر کچھ مداوا اے شریک ِ غم
کشکول دھرا ہے ہاتھ پر
سوالِ سائل ہے منتظر
نگاہ یاسیت سے بیاباں
بتا اے صاحب عقل! کہ تو ہے ہوش مند
ہے مال وزر نامعتبر
ہے جسم تو اِدھر، مگر ہے روح کدھر؟
بھٹک رہی وہ دربدر
تو ہی کچھ اس کی فکر کر
گُلوں کا پیرہن
مجھے دان کر
کہ خوشبو اٹھے جب جسم سے
تو لوٹ آئے روح ادھر
جو فنا کی سمت ہے رواں
کبھی اِس ڈگر، کبھی اُس ڈگر
چڑھے سیڑھیاں وہ عروج کی
مجھے ڈر لگے، اٹھے ہوک سی
کہیں چھو نہ لے وہ آسماں
کہیں چھو نہ لے وہ آسماں
Sana Ghori
حراساں ایک پیغام ملا پھر آج
محبت بانٹ لیتے ہیں ،محبت بانٹ لیتے ہیں
یہ جیون ، دکھ بھری نگری اسے ہم بھول جاتے ہیں
تم اپنے لفظ مجھے دے دو،میں اپنے ورق تمہیں دے دوں
کہ ملنا ہر گز نہیں تکمیل ،بس کچھ ساعتیں الفت کی
کہ خود سے جھوٹ کہتے ہیں
محبت بانٹ لیتے ہیں ،محبت بانٹ لیتے ہیں
تمہاری آنکھیں بتاتی ہیں،تمہاری پیاس کا قصہ
کہ میں شاطر کھلاڑی ہوں، نگاہوں کو پرکھنے میں
دلوں پے ہاتھ رکھتا ہوں،لبوں سے بیت لیتا ہوں
کمال ِ حور کی مانند جسم ہوجس کا ،پجاری میں فقط اس کا
چند دن تو کھیلوں گا ،تمہیں پھر چھوڑ جاﺅں گا،مگر پہلے
محبت بانٹ لیتے ہیں ،محبت بانٹ لیتے ہیں
تمہاری گرم جوشی نے، مجھے یہ راز بتلایا
کہ تم آسان مُحراہو، میری شطرنج کی بازی کا
بہت سے دکھ تمہارے لفظوں میں،پنہاں میں نے پائے ہیں
تمہاری روح شکستہ حال ،تمہارے لب نہ بجھتی پیاس
تمہارا جسم کہتا ہے ،زندگی اب نہیں تم میں
یہ بے جان لاشہ ہے شاید
مجھے بھی خود کو گدھ کہنے میں،کوئی اب عار نہیں آتی
تمہارا جسم مجسمہ ہے ،مجھے تو نوچ کھانا ہے
مجھے کیا فرق پڑتا ہے ،رمق ِ زندگی ہو باقی
یا ہو چیختی دھاڑتی لاشیں،میں چند دن تو کھیلوں گا
تمہیں پھر چھوڑ جاﺅں گا
محبت بانٹ لیتے ہیں، محبت بانٹ لیتے ہیں sana ghori
محبت بانٹ لیتے ہیں ،محبت بانٹ لیتے ہیں
یہ جیون ، دکھ بھری نگری اسے ہم بھول جاتے ہیں
تم اپنے لفظ مجھے دے دو،میں اپنے ورق تمہیں دے دوں
کہ ملنا ہر گز نہیں تکمیل ،بس کچھ ساعتیں الفت کی
کہ خود سے جھوٹ کہتے ہیں
محبت بانٹ لیتے ہیں ،محبت بانٹ لیتے ہیں
تمہاری آنکھیں بتاتی ہیں،تمہاری پیاس کا قصہ
کہ میں شاطر کھلاڑی ہوں، نگاہوں کو پرکھنے میں
دلوں پے ہاتھ رکھتا ہوں،لبوں سے بیت لیتا ہوں
کمال ِ حور کی مانند جسم ہوجس کا ،پجاری میں فقط اس کا
چند دن تو کھیلوں گا ،تمہیں پھر چھوڑ جاﺅں گا،مگر پہلے
محبت بانٹ لیتے ہیں ،محبت بانٹ لیتے ہیں
تمہاری گرم جوشی نے، مجھے یہ راز بتلایا
کہ تم آسان مُحراہو، میری شطرنج کی بازی کا
بہت سے دکھ تمہارے لفظوں میں،پنہاں میں نے پائے ہیں
تمہاری روح شکستہ حال ،تمہارے لب نہ بجھتی پیاس
تمہارا جسم کہتا ہے ،زندگی اب نہیں تم میں
یہ بے جان لاشہ ہے شاید
مجھے بھی خود کو گدھ کہنے میں،کوئی اب عار نہیں آتی
تمہارا جسم مجسمہ ہے ،مجھے تو نوچ کھانا ہے
مجھے کیا فرق پڑتا ہے ،رمق ِ زندگی ہو باقی
یا ہو چیختی دھاڑتی لاشیں،میں چند دن تو کھیلوں گا
تمہیں پھر چھوڑ جاﺅں گا
محبت بانٹ لیتے ہیں، محبت بانٹ لیتے ہیں sana ghori