حراساں
Poet: Sana Ghori By: sana ghori, karachiایک پیغام ملا پھر آج
محبت بانٹ لیتے ہیں ،محبت بانٹ لیتے ہیں
یہ جیون ، دکھ بھری نگری اسے ہم بھول جاتے ہیں
تم اپنے لفظ مجھے دے دو،میں اپنے ورق تمہیں دے دوں
کہ ملنا ہر گز نہیں تکمیل ،بس کچھ ساعتیں الفت کی
کہ خود سے جھوٹ کہتے ہیں
محبت بانٹ لیتے ہیں ،محبت بانٹ لیتے ہیں
تمہاری آنکھیں بتاتی ہیں،تمہاری پیاس کا قصہ
کہ میں شاطر کھلاڑی ہوں، نگاہوں کو پرکھنے میں
دلوں پے ہاتھ رکھتا ہوں،لبوں سے بیت لیتا ہوں
کمال ِ حور کی مانند جسم ہوجس کا ،پجاری میں فقط اس کا
چند دن تو کھیلوں گا ،تمہیں پھر چھوڑ جاﺅں گا،مگر پہلے
محبت بانٹ لیتے ہیں ،محبت بانٹ لیتے ہیں
تمہاری گرم جوشی نے، مجھے یہ راز بتلایا
کہ تم آسان مُحراہو، میری شطرنج کی بازی کا
بہت سے دکھ تمہارے لفظوں میں،پنہاں میں نے پائے ہیں
تمہاری روح شکستہ حال ،تمہارے لب نہ بجھتی پیاس
تمہارا جسم کہتا ہے ،زندگی اب نہیں تم میں
یہ بے جان لاشہ ہے شاید
مجھے بھی خود کو گدھ کہنے میں،کوئی اب عار نہیں آتی
تمہارا جسم مجسمہ ہے ،مجھے تو نوچ کھانا ہے
مجھے کیا فرق پڑتا ہے ،رمق ِ زندگی ہو باقی
یا ہو چیختی دھاڑتی لاشیں،میں چند دن تو کھیلوں گا
تمہیں پھر چھوڑ جاﺅں گا
محبت بانٹ لیتے ہیں، محبت بانٹ لیتے ہیں
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






