Poetries by Shabbir Nazish
جس گھڑی تیرے رُوبرو ہم تھے جس گھڑی تیرے رُوبرو ہم تھے
سُرخ پھولوں سے سُرخرو ہم تھے
آئنہ دِید کو ترستا تھا
ہم تھے جب ایسے خوبرو، ہم تھے
وہ بھی جب تھا تو کوبکو وہ تھا
ہم بھی جب تھے تو چارسُو ہم تھے
ہر کوئی محوِ گفتگو تھا وہاں
اور موضوعِ گفتگو ہم تھے
کیوں ہمیں گلستاں میں بھیجا گیا؟
کِن بہاروں کی آرزو ہم تھے؟ Shabbir Nazish
سُرخ پھولوں سے سُرخرو ہم تھے
آئنہ دِید کو ترستا تھا
ہم تھے جب ایسے خوبرو، ہم تھے
وہ بھی جب تھا تو کوبکو وہ تھا
ہم بھی جب تھے تو چارسُو ہم تھے
ہر کوئی محوِ گفتگو تھا وہاں
اور موضوعِ گفتگو ہم تھے
کیوں ہمیں گلستاں میں بھیجا گیا؟
کِن بہاروں کی آرزو ہم تھے؟ Shabbir Nazish
وہ کس پہ کس طرح کھلا، کھلا نہیں وہ کس پہ کس طرح کھلا، کھلا نہیں
مکمل آج تک خدا کھلا نہیں
مَیں خاک ہوں کہ نور کا ظہور ہوں
مَیں عکس ہوں کہ آئینہ، کھلا نہیں
وہ جس نے تشنگی کے ہونٹ تر کیے
وہ اَشک تھا کہ آبلہ، کھلا نہیں
ابھی کہاں ہوا ہے یہ سفر تمام
تمام رنگِ کربلا، کھلا نہیں
سفر کے باوجود مَیں وہیں پہ ہوں
زمیں نہیں کہ راستا، کھلا نہیں
وہ مجھ پہ کھل گیا تو مجھ پہ یہ کھلا
کہ مجھ پہ کھل گیا ہے کیا، کھلا نہیں
Shabbir Nazish
مکمل آج تک خدا کھلا نہیں
مَیں خاک ہوں کہ نور کا ظہور ہوں
مَیں عکس ہوں کہ آئینہ، کھلا نہیں
وہ جس نے تشنگی کے ہونٹ تر کیے
وہ اَشک تھا کہ آبلہ، کھلا نہیں
ابھی کہاں ہوا ہے یہ سفر تمام
تمام رنگِ کربلا، کھلا نہیں
سفر کے باوجود مَیں وہیں پہ ہوں
زمیں نہیں کہ راستا، کھلا نہیں
وہ مجھ پہ کھل گیا تو مجھ پہ یہ کھلا
کہ مجھ پہ کھل گیا ہے کیا، کھلا نہیں
Shabbir Nazish
رہینِ ہجر ہیں گوشہ نشینیاں میری رہینِ ہجر ہیں گوشہ نشینیاں میری
یقین کیسے کریں بے یقینیاں میری
مرے مزاج میں شامل نہ تھا یہ رُوکھا پن
کسی نے چھین لیں مجھ سے شرینیاں میری
مَیں دل کی دل میں چھپا لوں کسی بھی طور مگر
یہ بھید کھولتی آنکھیں کمینیاں میری
سِکھا رہے ہیں مجھے جھوٹ بولنا کچھ لوگ
اُنھیں پسند نہیں نکتہ چینیاں میری
کچھ اور کہتے ہوئے لوگ، روگ، سوگ اور جوگ
کچھ اور کہتی ہوئی پیش بینیاں میری
مَیں عشق پیچاں سے ٹوٹا، کہاں کہاں نہ گیا
اُڑائے پھرتی رہیں بے زمینیاں میری Shabbir Nazish
یقین کیسے کریں بے یقینیاں میری
مرے مزاج میں شامل نہ تھا یہ رُوکھا پن
کسی نے چھین لیں مجھ سے شرینیاں میری
مَیں دل کی دل میں چھپا لوں کسی بھی طور مگر
یہ بھید کھولتی آنکھیں کمینیاں میری
سِکھا رہے ہیں مجھے جھوٹ بولنا کچھ لوگ
اُنھیں پسند نہیں نکتہ چینیاں میری
کچھ اور کہتے ہوئے لوگ، روگ، سوگ اور جوگ
کچھ اور کہتی ہوئی پیش بینیاں میری
مَیں عشق پیچاں سے ٹوٹا، کہاں کہاں نہ گیا
اُڑائے پھرتی رہیں بے زمینیاں میری Shabbir Nazish
پتھر کو ہمکلام کِیا اور چل پڑا پتھر کو ہم کلام کِیا اور چل پڑا
آغازِ اختتام کِیا اور چل پڑا
لے دے کے ایک دل ہی بچا تھا مرا رفیق
وہ بھی کسی کے نام کِیا اور چل پڑا
اِک بادشاہ کے لیے بھیجا گیا میں عشق
اِک بادشہ غلام کِیا اور چل پڑا
وہ خوش نصیب شخص جو لشکر میں ایک تھا
اُس شخص کو سلام کِیا اور چل پڑا
دِل سے نگاہِ ناز اُٹھی اِس طرح کہ بس
مَیں نے سخن تمام کِیا اور چل پڑا
دَر پیش تھا سفر کسی صحرا میں شام کا
شبیر نے قیام کِیا اور چل پڑا
Shabbir Nazish
آغازِ اختتام کِیا اور چل پڑا
لے دے کے ایک دل ہی بچا تھا مرا رفیق
وہ بھی کسی کے نام کِیا اور چل پڑا
اِک بادشاہ کے لیے بھیجا گیا میں عشق
اِک بادشہ غلام کِیا اور چل پڑا
وہ خوش نصیب شخص جو لشکر میں ایک تھا
اُس شخص کو سلام کِیا اور چل پڑا
دِل سے نگاہِ ناز اُٹھی اِس طرح کہ بس
مَیں نے سخن تمام کِیا اور چل پڑا
دَر پیش تھا سفر کسی صحرا میں شام کا
شبیر نے قیام کِیا اور چل پڑا
Shabbir Nazish
صدائے خامشی پھیلی ہوئی ہے صدائے خامشی پھیلی ہوئی ہے
فضا میں سنسنی پھیلی ہوئی ہے
کہاں تک سلسلہ ہے کُن فکاں کا
کہاں تک زندگی پھیلی ہوئی ہے
رگِ جاں سے جہانِ دیگراں تک
کسی کی دلبری پھیلی ہوئی ہے
حصارِ عشق میں دو سائے رقصاں
حرم میں چاندنی پھیلی ہوئی ہے
سراسر آسماں پھیلا ہُوا ہے
زمیں تو سرسری پھیلی ہوئی ہے
لبوں پر لگ چکے ہیں قُفل جیسے
رگوں میں بے حسی پھیلی ہوئی ہے
اُسی اِک اَن کہی کا دُکھ ہے نازش
وہی اِک اَن کہی پھیلی ہوئی ہے
Shabbir Nazish
فضا میں سنسنی پھیلی ہوئی ہے
کہاں تک سلسلہ ہے کُن فکاں کا
کہاں تک زندگی پھیلی ہوئی ہے
رگِ جاں سے جہانِ دیگراں تک
کسی کی دلبری پھیلی ہوئی ہے
حصارِ عشق میں دو سائے رقصاں
حرم میں چاندنی پھیلی ہوئی ہے
سراسر آسماں پھیلا ہُوا ہے
زمیں تو سرسری پھیلی ہوئی ہے
لبوں پر لگ چکے ہیں قُفل جیسے
رگوں میں بے حسی پھیلی ہوئی ہے
اُسی اِک اَن کہی کا دُکھ ہے نازش
وہی اِک اَن کہی پھیلی ہوئی ہے
Shabbir Nazish
کسی سبب سے نہیں اور کسی وتد سے نہیں کسی سبب سے نہیں اور کسی وتد سے نہیں
شناخت اپنی بنائی ہے خود، سند سے نہیں
ہماری آنکھ کہیں اور جا لگی ہے میاں
ہمیں ذرا بھی غرض اب قبول و رد سے نہیں
خیال و حرف چرا کر ہماری غزلوں سے
کھڑے تو ہیں وہ مگر دیکھ پورے قد سے نہیں
گلے ملو کہ محبت پذیر ہیں ہم لوگ
بدی سے ہے ہمیں نفرت، کسی بھی بد سے نہیں
ہم اہل عشق تو امن و وفا کے داعی ہیں
وہ جس آگ لگائی، ہمارے جد سے نہیں
تمھارا سجنا سنورنا فضول ہے کہ ہمیں
تمھاری روح سے ہے عشق، خال و خد سے نہیں
ہوئے ہیں جس کے لیے خاک ہم سر بازار
ہمیں بھی چاہا تو اس نے، پہ شد و مد سے نہیں Shabbir Nazish
شناخت اپنی بنائی ہے خود، سند سے نہیں
ہماری آنکھ کہیں اور جا لگی ہے میاں
ہمیں ذرا بھی غرض اب قبول و رد سے نہیں
خیال و حرف چرا کر ہماری غزلوں سے
کھڑے تو ہیں وہ مگر دیکھ پورے قد سے نہیں
گلے ملو کہ محبت پذیر ہیں ہم لوگ
بدی سے ہے ہمیں نفرت، کسی بھی بد سے نہیں
ہم اہل عشق تو امن و وفا کے داعی ہیں
وہ جس آگ لگائی، ہمارے جد سے نہیں
تمھارا سجنا سنورنا فضول ہے کہ ہمیں
تمھاری روح سے ہے عشق، خال و خد سے نہیں
ہوئے ہیں جس کے لیے خاک ہم سر بازار
ہمیں بھی چاہا تو اس نے، پہ شد و مد سے نہیں Shabbir Nazish
نظر انداز کیے جانے پہ حیرت کیسی نظر انداز کیے جانے پہ حیرت کیسی
کر چکے ترک تعلق تو شکایت کیسی
عشق ہے نام بہر گام فنا ہونے کا
عشق میں دوست تمنائے سہولت کیسی
آنکھ میں تو نے ابھی پہلا قدم رکھا ہے
آ گئی تجھ میں ابھی سے یہ رعونت کیسی
نام اپنا بھی مجھے پوچھنا پڑ جاتا ہے
دیکھ حالات نے کر دی مری حالت کیسی
میں ترے دھیان میں بیٹھا تو اٹھا پردہ ء تُو
عین جلوت میں میسر ہوئی خلوت کیسی
وہ تو وہ ہیں کہ اگر نام بھی اُن کا آ جائے
جاگ اٹھتی ہے مرے دل میں محبت کیسی
اب کوئی چارہ کوئی یارا نہیں بچنے کا
تم پہ کی ہم نے تمام آخری حجت کیسی
Shabbir Nazish
کر چکے ترک تعلق تو شکایت کیسی
عشق ہے نام بہر گام فنا ہونے کا
عشق میں دوست تمنائے سہولت کیسی
آنکھ میں تو نے ابھی پہلا قدم رکھا ہے
آ گئی تجھ میں ابھی سے یہ رعونت کیسی
نام اپنا بھی مجھے پوچھنا پڑ جاتا ہے
دیکھ حالات نے کر دی مری حالت کیسی
میں ترے دھیان میں بیٹھا تو اٹھا پردہ ء تُو
عین جلوت میں میسر ہوئی خلوت کیسی
وہ تو وہ ہیں کہ اگر نام بھی اُن کا آ جائے
جاگ اٹھتی ہے مرے دل میں محبت کیسی
اب کوئی چارہ کوئی یارا نہیں بچنے کا
تم پہ کی ہم نے تمام آخری حجت کیسی
Shabbir Nazish
خسارے ہی خسارے میں ہوئی تھی خسارے ہی خسارے میں ہوئی تھی
محبت استعارے میں ہوئی تھی
اور اس کے بعد سب کچھ بہہ گیا تھا
بس اک جنبش کنارے میں ہوئی تھی
مجھے پیکر میں جب لایا گیا تھا
نموداری ستارے میں ہوئی تھی
خدا سے میری پہلی گفتگو بھی
سراسر تیرے بارے میں ہوئی تھی
ترے اک روز ملنے کی بشارت
گماں کے استخارے میں ہوئی تھی
Shabbir Nazish
محبت استعارے میں ہوئی تھی
اور اس کے بعد سب کچھ بہہ گیا تھا
بس اک جنبش کنارے میں ہوئی تھی
مجھے پیکر میں جب لایا گیا تھا
نموداری ستارے میں ہوئی تھی
خدا سے میری پہلی گفتگو بھی
سراسر تیرے بارے میں ہوئی تھی
ترے اک روز ملنے کی بشارت
گماں کے استخارے میں ہوئی تھی
Shabbir Nazish
چمکا شبِ گمان میں جگنو گریز کا چمکا شبِ گمان میں جگنو گریز کا
نِکلا یقیں کی آنکھ سے آنسو گریز کا
ہم بہہ رہے تھے عشق میں دریا دِلی کے ساتھ
جانے کہاں سے آ گیا پہلو گریز کا
کم کم سُخن کِیا گیا کچھ دن اور اُس کے بعد
سر چڑھ کے بولنے لگا جادو گریز کا
منظر بدل رہا ہے کہ دشتِ خیال میں
رَم بھر رہا ہے شوق سے آہو گریز کا
بس آہ بھر کے ہو رہے اُس گل پہ ہم نثار
پیغام لے کے آئی تھی خوشبو، گریز کا
آیا ہی تھا خیال شبِ وصل کا مجھے
پہرہ بٹھا دِیا گیا ہر سُو گریز کا
مائل تو ہے گریز پہ نازش! مگر بتا
مطلب بھی جانتا ہے بھلا تُو گریز کا؟ Shabbir Nazish
نِکلا یقیں کی آنکھ سے آنسو گریز کا
ہم بہہ رہے تھے عشق میں دریا دِلی کے ساتھ
جانے کہاں سے آ گیا پہلو گریز کا
کم کم سُخن کِیا گیا کچھ دن اور اُس کے بعد
سر چڑھ کے بولنے لگا جادو گریز کا
منظر بدل رہا ہے کہ دشتِ خیال میں
رَم بھر رہا ہے شوق سے آہو گریز کا
بس آہ بھر کے ہو رہے اُس گل پہ ہم نثار
پیغام لے کے آئی تھی خوشبو، گریز کا
آیا ہی تھا خیال شبِ وصل کا مجھے
پہرہ بٹھا دِیا گیا ہر سُو گریز کا
مائل تو ہے گریز پہ نازش! مگر بتا
مطلب بھی جانتا ہے بھلا تُو گریز کا؟ Shabbir Nazish
تیرے ہونٹوں سے جب ادا ہُوا مَیں تیرے ہونٹوں سے جب ادا ہُوا مَیں
کیا کہوں سرخوشی سے کیا ہُوا مَیں
چل رہی تھی تو سب مسافر تھے
نائو ڈوبی تو ناخدا ہُوا مَیں
جانے کس دیس جا نکلتا ہوں
تیرے بارے میں سوچتا ہُوا مَیں
جتنا چاہے گریز کر مجھ سے
تیرے ماتھے پہ ہوں لِکھا ہُوا مَیں
کوئی تِتلی اِدھر نہیں آتی
باغ سے دُور ہوں کھِلا ہُوا مَیں
خرچ کر یا مجھے بچا کے رکھ
جا تجھے کہہ دیا ترا ہُوا مَیں
مجھے بچہ سمجھتی ہے اب تک
ماں کے آگے کہاں بڑا ہُوا مَیں
Shabbir Nazish
کیا کہوں سرخوشی سے کیا ہُوا مَیں
چل رہی تھی تو سب مسافر تھے
نائو ڈوبی تو ناخدا ہُوا مَیں
جانے کس دیس جا نکلتا ہوں
تیرے بارے میں سوچتا ہُوا مَیں
جتنا چاہے گریز کر مجھ سے
تیرے ماتھے پہ ہوں لِکھا ہُوا مَیں
کوئی تِتلی اِدھر نہیں آتی
باغ سے دُور ہوں کھِلا ہُوا مَیں
خرچ کر یا مجھے بچا کے رکھ
جا تجھے کہہ دیا ترا ہُوا مَیں
مجھے بچہ سمجھتی ہے اب تک
ماں کے آگے کہاں بڑا ہُوا مَیں
Shabbir Nazish
یہ کون سا نظام ہے؟ یہ روز و شب کی محنتیں ، یہ کاوشیں یہ کوششیں
کہ اَن گنت بہادروں کے بازو سُوکھ سُوکھ کر
جو بن گئے ہیں رَسیاں
کہ بیکراں سمندروں میں اپنی اپنی کشتیاں
بغیر چپوئوں کے ہم چلا رہے ہیں خوف سے
یہ مُنتشر اِدھر اُدھر
جو آ رہے ہیں سَر نظر
یہ سَر نہیں یہ سَر نہیں۔۔۔۔۔یہ کھیت ہیں کپاس کے
اَذیّتوں کے دشت سے گزر رہا ہے کارواں
ہمیں نہیں ہے کچھ خبر کہ کس طرف ہیں منزلیں
مگر ہیں ہم رواں دواں
وہ چہرے جو گلاب تھے
مسرتوں کے باب تھے
جو چودھویں کا چاند تھے
جو باعثِ شباب تھے
وہ چہرے اب بگڑ گئے ، وہ چہرے اب پِچک گئے
وہ اب پرانے برتنوں کا ڈھیر بن چکے ہیں سب
کمر کمان کی طرح سبھی کی جُھک گئی ہے اب
ہم اِک صدی کے بعد بھی اُسی جگہ پہ ہیں کھڑے
جہاں سے ہم نے اِس سفر کی کی تھی ابتدا کبھی
یہ کون سا نظام ہے؟
یہ کون سا نظام ہے؟
جہاں پہ اِک مریض کو دوا دیئے بغیر ہی
رپورٹ دے کے ہاتھ میں
اُسے یہ پھر کہے کوئی
اِسی میں تیری بہتری ہے اب یہاں سے بھاگ جا
یہ کون سا نظام ہے؟
جہاں پہ ہیں عدالتیں
عدالتوں میں مُنصفوں کی بھیڑ ہے مگر یہاں
جنھوں نے جھوٹ بول کر نفاستِ خیال سے بیان مُدّعا کِیا
اُنھیں بری کِیا گیا
مگر جنھوں نے سچ کہا اُنہی کی گردنوں کا ناپ دار پر لِیا گیا
نظر کسی کی ہے اگر
تو دیکھ لے مرا یہ سَر
بنا کفن یہ سَر نہیں
مجھے کسی کا ڈر نہیں
میں سچ کہوں گا برملا کہ ساتھ ہے مرا خدا
میں پوچھتا ہوں حاکمو!
یہ گردنیں اُٹھائو تو
ذرا نظر ملائو تو
ذرا مجھے بتائو تو
کیا یہی ہیں دیس کی عدالتوں کے فیصلے۔۔۔۔۔؟
یہ کون سا نظام ہے؟
یہ کون سا نظام ہے؟
کہ جس کی کائناتِ کُل یہ فائلیں ہیں اور بس
یہ پارکوں ، عمارتوں ، یہ جنگلوں کی فائلیں
یہ اشتہاری مجرموں ، سمگلروں ، یہ قاتلوں کی فائلیں
پڑھے لکھے جو روزگار کو ترس رہے ہیں اُن کی فائلیں
یہ کالجوں کی فائلیں ، یہ رہبروں کی فائلیں
یہ راشی افسروں ، یہ نادہندگاں کی فائلیں
کہ یہ فلاں کی فائلیں ہیں ، یہ فلاں کی فائلیں
میں سوچتا ہوں ہیں یہ ساری کس جہاں کی فائلیں؟
یہ سارے مسئلے بنے ہیں کاغذوں کے زینتیں
کہ اِن پہ آج تک عمل ذرا بھی ہو نہیں سکا
یہ سوچ کر بتائو تو۔۔۔۔بھلا یہ اِک نظام ہے؟
نہیں نہیں کہ یہ فقط خواص کا غلام ہے
بھلا یہ کب تلک فصیل چاٹتے رہیں گے ہم؟
یہ آہنی فصیل ہے
فصیل یہ ثقیل ہے Shabbir Nazish
کہ اَن گنت بہادروں کے بازو سُوکھ سُوکھ کر
جو بن گئے ہیں رَسیاں
کہ بیکراں سمندروں میں اپنی اپنی کشتیاں
بغیر چپوئوں کے ہم چلا رہے ہیں خوف سے
یہ مُنتشر اِدھر اُدھر
جو آ رہے ہیں سَر نظر
یہ سَر نہیں یہ سَر نہیں۔۔۔۔۔یہ کھیت ہیں کپاس کے
اَذیّتوں کے دشت سے گزر رہا ہے کارواں
ہمیں نہیں ہے کچھ خبر کہ کس طرف ہیں منزلیں
مگر ہیں ہم رواں دواں
وہ چہرے جو گلاب تھے
مسرتوں کے باب تھے
جو چودھویں کا چاند تھے
جو باعثِ شباب تھے
وہ چہرے اب بگڑ گئے ، وہ چہرے اب پِچک گئے
وہ اب پرانے برتنوں کا ڈھیر بن چکے ہیں سب
کمر کمان کی طرح سبھی کی جُھک گئی ہے اب
ہم اِک صدی کے بعد بھی اُسی جگہ پہ ہیں کھڑے
جہاں سے ہم نے اِس سفر کی کی تھی ابتدا کبھی
یہ کون سا نظام ہے؟
یہ کون سا نظام ہے؟
جہاں پہ اِک مریض کو دوا دیئے بغیر ہی
رپورٹ دے کے ہاتھ میں
اُسے یہ پھر کہے کوئی
اِسی میں تیری بہتری ہے اب یہاں سے بھاگ جا
یہ کون سا نظام ہے؟
جہاں پہ ہیں عدالتیں
عدالتوں میں مُنصفوں کی بھیڑ ہے مگر یہاں
جنھوں نے جھوٹ بول کر نفاستِ خیال سے بیان مُدّعا کِیا
اُنھیں بری کِیا گیا
مگر جنھوں نے سچ کہا اُنہی کی گردنوں کا ناپ دار پر لِیا گیا
نظر کسی کی ہے اگر
تو دیکھ لے مرا یہ سَر
بنا کفن یہ سَر نہیں
مجھے کسی کا ڈر نہیں
میں سچ کہوں گا برملا کہ ساتھ ہے مرا خدا
میں پوچھتا ہوں حاکمو!
یہ گردنیں اُٹھائو تو
ذرا نظر ملائو تو
ذرا مجھے بتائو تو
کیا یہی ہیں دیس کی عدالتوں کے فیصلے۔۔۔۔۔؟
یہ کون سا نظام ہے؟
یہ کون سا نظام ہے؟
کہ جس کی کائناتِ کُل یہ فائلیں ہیں اور بس
یہ پارکوں ، عمارتوں ، یہ جنگلوں کی فائلیں
یہ اشتہاری مجرموں ، سمگلروں ، یہ قاتلوں کی فائلیں
پڑھے لکھے جو روزگار کو ترس رہے ہیں اُن کی فائلیں
یہ کالجوں کی فائلیں ، یہ رہبروں کی فائلیں
یہ راشی افسروں ، یہ نادہندگاں کی فائلیں
کہ یہ فلاں کی فائلیں ہیں ، یہ فلاں کی فائلیں
میں سوچتا ہوں ہیں یہ ساری کس جہاں کی فائلیں؟
یہ سارے مسئلے بنے ہیں کاغذوں کے زینتیں
کہ اِن پہ آج تک عمل ذرا بھی ہو نہیں سکا
یہ سوچ کر بتائو تو۔۔۔۔بھلا یہ اِک نظام ہے؟
نہیں نہیں کہ یہ فقط خواص کا غلام ہے
بھلا یہ کب تلک فصیل چاٹتے رہیں گے ہم؟
یہ آہنی فصیل ہے
فصیل یہ ثقیل ہے Shabbir Nazish
کھلی ہے آنکھ حقیقت کی ، اِنتقال کے بعد کھلی ہے آنکھ حقیقت کی ، اِنتقال کے بعد
میں زندگی! تجھے سمجھا ہوں دیکھ بھال کے بعد
تو میری روح ، مرا عشق ہے نِڈر ہو جا
شجر نہیں ہوں کہ بدلوں لباس سال کے بعد
مرے عدو کے ارادے تمام خاک ہوئے
جب اور عجز میں آیا میں اشتعال کے بعد
تری جدائی کے صدمے نے کر دیا پاگل
رہا ملال نہ کوئی ترے ملال کے بعد
تم اِس طرح سے اگر حوصلہ بڑھاتے رہے
بڑے کمال کروں گا میں اِس کمال کے بعد
پھر اُس کی آنکھیں ندامت کے اشک لے ڈوبے
دلِ تباہ سے اُٹھتے ہوئے سوال کے بعد
ترے جنوں نے تجھے سُرخ رُو کیا نازش
تجھے عروج ملا ضبطِ بے مثال کے بعد
Shabbir Nazish
میں زندگی! تجھے سمجھا ہوں دیکھ بھال کے بعد
تو میری روح ، مرا عشق ہے نِڈر ہو جا
شجر نہیں ہوں کہ بدلوں لباس سال کے بعد
مرے عدو کے ارادے تمام خاک ہوئے
جب اور عجز میں آیا میں اشتعال کے بعد
تری جدائی کے صدمے نے کر دیا پاگل
رہا ملال نہ کوئی ترے ملال کے بعد
تم اِس طرح سے اگر حوصلہ بڑھاتے رہے
بڑے کمال کروں گا میں اِس کمال کے بعد
پھر اُس کی آنکھیں ندامت کے اشک لے ڈوبے
دلِ تباہ سے اُٹھتے ہوئے سوال کے بعد
ترے جنوں نے تجھے سُرخ رُو کیا نازش
تجھے عروج ملا ضبطِ بے مثال کے بعد
Shabbir Nazish
زندگی زرد زرد چہروں میں زندگی زرد زرد چہروں میں
بھیک ڈالی گئی ہے کاسوں میں
ہم سے کیا پوچھتے ہو رنگِ جہاں؟
ہم تو زندوں میں ہیں نہ مُردوں میں
دلِ معصوم ٹوٹ ٹوٹ گیا
ہم سجے رہ گئے دُکانوں میں
سوئے ہوتے ہیں اپنے گھر میں ہم
پائے جاتے ہیں اُن کی گلیوں میں
اب کتابوں میں بھی نہیں مِلتا
پیار ہوتا تھا پہلے لوگوں میں
یا الٰہی! بس اُس کی ایک جھلک
جس کی خوشبو ہے میری سانسوں میں
چھان دیکھی ہے مشرقین کی خاک
آن بیٹھا ہوں تیرے قدموں میں
نازش ایسا قلندرانہ مزاج
کوئی ہوگا تو ہوگا صدیوں میں
Shabbir Nazish
بھیک ڈالی گئی ہے کاسوں میں
ہم سے کیا پوچھتے ہو رنگِ جہاں؟
ہم تو زندوں میں ہیں نہ مُردوں میں
دلِ معصوم ٹوٹ ٹوٹ گیا
ہم سجے رہ گئے دُکانوں میں
سوئے ہوتے ہیں اپنے گھر میں ہم
پائے جاتے ہیں اُن کی گلیوں میں
اب کتابوں میں بھی نہیں مِلتا
پیار ہوتا تھا پہلے لوگوں میں
یا الٰہی! بس اُس کی ایک جھلک
جس کی خوشبو ہے میری سانسوں میں
چھان دیکھی ہے مشرقین کی خاک
آن بیٹھا ہوں تیرے قدموں میں
نازش ایسا قلندرانہ مزاج
کوئی ہوگا تو ہوگا صدیوں میں
Shabbir Nazish
آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیں آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیں
ہجر کا تذکرہ تو ہے ہی نہیں
مِل گیا تُو ، مِل گیا سب کچھ
اور کچھ مانگنا تو ہے ہی نہیں
ایک ہی راستہ نجات کا ہے
دوسرا راستہ تو ہے ہی نہیں
عکس مجھ کو دِکھا رہا ہے کون
سامنے آئینہ تو ہے ہی نہیں
معذرت کر نہ بے وفا کہہ کر
مجھے اَب ماننا تو ہے ہی نہیں
یہ مرض عشق کا مرض ہے میاں
اِس مرض کی دوا تو ہے ہی نہیں
آپ اپنوں میں اب نہیں شامل
آپ سے اَب گلہ تو ہے ہی نہیں
Shabbir Nazish
ہجر کا تذکرہ تو ہے ہی نہیں
مِل گیا تُو ، مِل گیا سب کچھ
اور کچھ مانگنا تو ہے ہی نہیں
ایک ہی راستہ نجات کا ہے
دوسرا راستہ تو ہے ہی نہیں
عکس مجھ کو دِکھا رہا ہے کون
سامنے آئینہ تو ہے ہی نہیں
معذرت کر نہ بے وفا کہہ کر
مجھے اَب ماننا تو ہے ہی نہیں
یہ مرض عشق کا مرض ہے میاں
اِس مرض کی دوا تو ہے ہی نہیں
آپ اپنوں میں اب نہیں شامل
آپ سے اَب گلہ تو ہے ہی نہیں
Shabbir Nazish
اپنی آنکھوں میں ترے خواب سجانے والا اپنی آنکھوں میں ترے خواب سجانے والا
اب یہاں کوئی نہیں تجھ کو منانے والا
کیا سے کیا اب ترے حالات ہوئے جاتے ہیں
وقت اچھا نہیں لگتا مجھے آنے والا
میرے محبوب تُو لیلٰی کی لڑی سے نہ سہی
پر مرا عشق ہے مجنوں کے گھرانے والا
میں نا کہتا تھا بدل جائے گا آخر تُو بھی
بھا گیا ہے نا تجھے رنگ زمانے والا
چھوڑ جاتے ہیں سبھی راہ میں ، لیکن مرے یار!
یوں بھی جاتا ہے کوئی چھوڑ کے جانے والا
Shabbir Nazish
اب یہاں کوئی نہیں تجھ کو منانے والا
کیا سے کیا اب ترے حالات ہوئے جاتے ہیں
وقت اچھا نہیں لگتا مجھے آنے والا
میرے محبوب تُو لیلٰی کی لڑی سے نہ سہی
پر مرا عشق ہے مجنوں کے گھرانے والا
میں نا کہتا تھا بدل جائے گا آخر تُو بھی
بھا گیا ہے نا تجھے رنگ زمانے والا
چھوڑ جاتے ہیں سبھی راہ میں ، لیکن مرے یار!
یوں بھی جاتا ہے کوئی چھوڑ کے جانے والا
Shabbir Nazish
جب اُس نے گفتگو ہی سے تاثیر کھینچ لی جب اُس نے گفتگو ہی سے تاثیر کھینچ لی
میں نے بھی میل جول میں تاخیر کھینچ لی
پہلے تو میرے ہاتھ میں کشکول دے دیا
پھر یوں کِیا کہ وقت نے تصویر کھینچ لی
میرے گناہ ، کیا تری رحمت سے بڑھ گئے؟
پھر کیوں مری دعائوں سے تاثیر کھینچ لی؟
دل نے ابھی لیا ہی تھا تازہ ہوا میں سانس
فوراً کسی نے پائوں کی زنجیر کھینچ لی
اِک اختلافِ رائے پر اِس درجہ برہمی؟
کیوں دوست تُونے ہجر کی شمشیر کھینچ لی؟
Shabbir Nazish
میں نے بھی میل جول میں تاخیر کھینچ لی
پہلے تو میرے ہاتھ میں کشکول دے دیا
پھر یوں کِیا کہ وقت نے تصویر کھینچ لی
میرے گناہ ، کیا تری رحمت سے بڑھ گئے؟
پھر کیوں مری دعائوں سے تاثیر کھینچ لی؟
دل نے ابھی لیا ہی تھا تازہ ہوا میں سانس
فوراً کسی نے پائوں کی زنجیر کھینچ لی
اِک اختلافِ رائے پر اِس درجہ برہمی؟
کیوں دوست تُونے ہجر کی شمشیر کھینچ لی؟
Shabbir Nazish
سُنا کے رنج و الم مجھ کو اُلجھنوں میں نہ ڈال سُنا کے رنج و الم مجھ کو اُلجھنوں میں نہ ڈال
سفر کا خوف مرے عزم کی رگوں میں نہ ڈال
میں اِس جہان کو کچھ اور دینا چاہتا ہوں
تُو کارِ وقت کے پُرہول چکروں میں نہ ڈال
ملول دیکھ کے تجھ کو میں رُک نہ جائوں کہیں
خدارا! ہجر کی شدت کو آنسوئوں میں نہ ڈال
تری بھلائی کی خطر مجھے اُتارا گیا
مجھے لپیٹ کے کپڑوں میں، طاقچوں میں نہ ڈال
یہ ہجرتیں تو مقدر ہیں اور مشغلہ بھی
تُو بے گھری کے حوالے سے وسوسوں میں نہ ڈال
Shabbir Nazish
سفر کا خوف مرے عزم کی رگوں میں نہ ڈال
میں اِس جہان کو کچھ اور دینا چاہتا ہوں
تُو کارِ وقت کے پُرہول چکروں میں نہ ڈال
ملول دیکھ کے تجھ کو میں رُک نہ جائوں کہیں
خدارا! ہجر کی شدت کو آنسوئوں میں نہ ڈال
تری بھلائی کی خطر مجھے اُتارا گیا
مجھے لپیٹ کے کپڑوں میں، طاقچوں میں نہ ڈال
یہ ہجرتیں تو مقدر ہیں اور مشغلہ بھی
تُو بے گھری کے حوالے سے وسوسوں میں نہ ڈال
Shabbir Nazish
چہرہ کوئی بھی آنکھ میں ٹھہرا نہ پھر کبھی چہرہ کوئی بھی آنکھ میں ٹھہرا نہ پھر کبھی
دل نے کسی بھی شخص کو چاہا نہ پھر کبھی
روٹھا ذرا سی بات پہ ، اُٹھ کر چلا گیا
ایسا گیا کہ لوٹ کے آیا نہ پھر کبھی
کچھ یوں ملا تپاک سے بس عشق ہو گیا
وہ اجنبی تھا ، کون تھا ، سوچا نہ پھر کبھی
اُس نے بطور تحفہ دیا تھا لباسِ ہجر
پہنا جو ایک بار ، اُتارا نہ پھر کبھی
دیکھے ضعیف کاندھوں پہ محنت کے جب نشاں
بچوں نے کچھ بھی باپ سے مانگا نہ پھر کبھی
دولت ملی تو چھن گئی احساس کی قبا
اُس مرا مزاج بھی پوچھا نہ پھر کبھی
نازش گزر چکا تھا حدِ اعتدال سے
جانے کہاں گیا اُسے دیکھا نہ پھر کبھی
Shabbir Nazish
دل نے کسی بھی شخص کو چاہا نہ پھر کبھی
روٹھا ذرا سی بات پہ ، اُٹھ کر چلا گیا
ایسا گیا کہ لوٹ کے آیا نہ پھر کبھی
کچھ یوں ملا تپاک سے بس عشق ہو گیا
وہ اجنبی تھا ، کون تھا ، سوچا نہ پھر کبھی
اُس نے بطور تحفہ دیا تھا لباسِ ہجر
پہنا جو ایک بار ، اُتارا نہ پھر کبھی
دیکھے ضعیف کاندھوں پہ محنت کے جب نشاں
بچوں نے کچھ بھی باپ سے مانگا نہ پھر کبھی
دولت ملی تو چھن گئی احساس کی قبا
اُس مرا مزاج بھی پوچھا نہ پھر کبھی
نازش گزر چکا تھا حدِ اعتدال سے
جانے کہاں گیا اُسے دیکھا نہ پھر کبھی
Shabbir Nazish
کم ترے ضبط کی قیمت نہیں کرنے والے کم ترے ضبط کی قیمت نہیں کرنے والے
ہم تری آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والے
اپنے نزدیک محبت ہے عبادت کی طرح
ہم عبادت کی تجارت نہیں کرنے والے
یہ الگ بات کہ اظہار نہیں کر سکتے
یہ نہ سمجھو کہ محبت نہیں کرنے والے
کاٹ کر پھینک دے سر ، چاہے سجا نیزے پر
ہم ترے ہاتھ پہ بیعت نہیں کرنے والے
حاکمِ وقت ذرا اپنے گریبان میں جھانک
لوگ بے وجہ بغاوت نہیں کرنے والے
Shabbir Nazish
ہم تری آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والے
اپنے نزدیک محبت ہے عبادت کی طرح
ہم عبادت کی تجارت نہیں کرنے والے
یہ الگ بات کہ اظہار نہیں کر سکتے
یہ نہ سمجھو کہ محبت نہیں کرنے والے
کاٹ کر پھینک دے سر ، چاہے سجا نیزے پر
ہم ترے ہاتھ پہ بیعت نہیں کرنے والے
حاکمِ وقت ذرا اپنے گریبان میں جھانک
لوگ بے وجہ بغاوت نہیں کرنے والے
Shabbir Nazish