چہرہ کوئی بھی آنکھ میں ٹھہرا نہ پھر کبھی
Poet: Shabbir Nazish By: Shabbir Nazish, Karachiچہرہ کوئی بھی آنکھ میں ٹھہرا نہ پھر کبھی
دل نے کسی بھی شخص کو چاہا نہ پھر کبھی
روٹھا ذرا سی بات پہ ، اُٹھ کر چلا گیا
ایسا گیا کہ لوٹ کے آیا نہ پھر کبھی
کچھ یوں ملا تپاک سے بس عشق ہو گیا
وہ اجنبی تھا ، کون تھا ، سوچا نہ پھر کبھی
اُس نے بطور تحفہ دیا تھا لباسِ ہجر
پہنا جو ایک بار ، اُتارا نہ پھر کبھی
دیکھے ضعیف کاندھوں پہ محنت کے جب نشاں
بچوں نے کچھ بھی باپ سے مانگا نہ پھر کبھی
دولت ملی تو چھن گئی احساس کی قبا
اُس مرا مزاج بھی پوچھا نہ پھر کبھی
نازش گزر چکا تھا حدِ اعتدال سے
جانے کہاں گیا اُسے دیکھا نہ پھر کبھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






