نظر انداز کیے جانے پہ حیرت کیسی

Poet: Shabbir Nazish By: Shabbir Nazish, Karachi

نظر انداز کیے جانے پہ حیرت کیسی
کر چکے ترک تعلق تو شکایت کیسی

عشق ہے نام بہر گام فنا ہونے کا
عشق میں دوست تمنائے سہولت کیسی

آنکھ میں تو نے ابھی پہلا قدم رکھا ہے
آ گئی تجھ میں ابھی سے یہ رعونت کیسی

نام اپنا بھی مجھے پوچھنا پڑ جاتا ہے
دیکھ حالات نے کر دی مری حالت کیسی

میں ترے دھیان میں بیٹھا تو اٹھا پردہ ء تُو
عین جلوت میں میسر ہوئی خلوت کیسی

وہ تو وہ ہیں کہ اگر نام بھی اُن کا آ جائے
جاگ اٹھتی ہے مرے دل میں محبت کیسی

اب کوئی چارہ کوئی یارا نہیں بچنے کا
تم پہ کی ہم نے تمام آخری حجت کیسی
 

Rate it:
Views: 4691
12 May, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL