Tou Kya Tumhein Mein Kbhi Yaad He Nhi Aya=>(Dua)
Poet: Alone Poet By: Rao Awais Sagheer, KabirwalaTo Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"?
Kisi Gulaab Ki Khushboo Kay BikharnayVPar Bhi Nhi?
Kitaab Uthatay Huay Bhi Nhi? Geet Koi Gaatay Huay Bhi Nhi?
Ittar Lagatay Huay Bhi Nhi? Chooriyan Pehentay Huay Bhi Nhi?
To Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"?
Subha Ko Uthtay Huay Bhi Nhi? Shaam Ko Teheltay Huay Bhi Nhi?
Neend Naa Aaye Agar Karwatain Badaltay Huay Bhi Nhi?
Kabhi Yoonhi Kisi Dhun Ko Suntay Huay Bhi Nhi?
To Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"?
Kisi Kay Rooth Kay Jaanay Pay Chirchiray Hokar Bhi Nhi?
Kisi Saheli Say Bus Yoonhi Baat Kartay Huay Bhi Nhi?
Kisi Khayal Main Bethay Achanak Se Uth Ke Chaltay Huay Bhi Nhi?
Kisi Bhi Raat Ko Uth Kar Yoonhi Tehltay Huay Bhi Nhi?
To Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"?
Akelay Yoonhi Kabhi Apni Dhun Main Chlatay Huay Bhi Nhi?
Kisi Ki Saalgira Par Yoonhi Beheltay Huay Bhi Nhi?
Kisi Onchayi Pe Tanha Sambhal Ke Chartay Huay Bhi Nhi?
To Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"?
Kisi Gulaab Ko Tehni Se Torr Kar Bhi Nahi?
Kisi Darakht Ke Saaye Main Baith Kar Bhi Nahi?
Apnay Darwazay Pe Dastak Koyi Sunkar Bhi Nahi?
Apni Kitab Main Koi Naam Dekh Kar Bhi Nahi?
Kisi Bhi Shakhs Ko Khamosh Dekh Kar Bhi Nahi?
Kisi Bhi Aankh Ko Num Dekh Kar Bhi Nahi?
Kahin Lafzon Main Koi A=>(Awais) Dekh Kar Bhi Nahi?
To Kiya Tumhain Main Kabhi Yaad Hi Nahi Aaya "Dua"????
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






