Poetries by Umer Farooqi
جب تک نہیں جاتا وہ میری حدود قلب سے جب تک نہیں جاتا وہ میری حدود قلب سے
تب تک میں اس کی محبت کا قرض دار رہوں گا
کر جاتا ہے شکوہ وہ مجھ پر انجانے میں
محفل میں، میں جب بھی کسی اور سے ملوں گا
وہ تو بسا ہے میرے تخیل کے گردوں نواں میں
کس طرح میں اسے اپنی یادوں سے نکال سکوں گا
تنہائی تو سایہ ہے میرا، یہی کہنا تھا کہ بس
وہ روٹھ جائیں گے، میں کیسے منا پاؤں گا
وہ شخص میری زندگی میں درد داغ لگا گیا
روز حشر میں اپنے غموں کا اسے حقدار کہوں گا
بھلا کر بھی نہ بھلا سکا میں اس کو خدارا
بعد مرنے کے میں اپنے شعروں میں یہی کہتا بھروں گا
گزار بیٹھا میں عمر دکھوں کے جھرمٹ میں
لحد میں جانے کے بعد بھی نہ اُسے بھول سکوں گا Umer Farooqi
تب تک میں اس کی محبت کا قرض دار رہوں گا
کر جاتا ہے شکوہ وہ مجھ پر انجانے میں
محفل میں، میں جب بھی کسی اور سے ملوں گا
وہ تو بسا ہے میرے تخیل کے گردوں نواں میں
کس طرح میں اسے اپنی یادوں سے نکال سکوں گا
تنہائی تو سایہ ہے میرا، یہی کہنا تھا کہ بس
وہ روٹھ جائیں گے، میں کیسے منا پاؤں گا
وہ شخص میری زندگی میں درد داغ لگا گیا
روز حشر میں اپنے غموں کا اسے حقدار کہوں گا
بھلا کر بھی نہ بھلا سکا میں اس کو خدارا
بعد مرنے کے میں اپنے شعروں میں یہی کہتا بھروں گا
گزار بیٹھا میں عمر دکھوں کے جھرمٹ میں
لحد میں جانے کے بعد بھی نہ اُسے بھول سکوں گا Umer Farooqi
چپکے چپکے تم چپکے چپکے مجھ سے پیار کرتی ہو
اپنی نگاہوں پر مجھے سوار کرتی ہو
مجھے ملنے کی خاطر تیرا ڈوبتے جانا
میرا کیوں اتنا انتظار کرتی ہو
وہ رات گئے تک میری باتیں سوچے جانا
ہر وقت کیوں دل کو بے قرار کرتی ہو
مجھ پر ذرا آنچ آنے سے تیرا ڈوبتے جانا
کیوں جان کو مجھ پر نثار کرتی ہو
محبت میں میری عمر گزار دینا
اس طرح کے وعدے کیوں ہر بار کرتی ہو
حاصل کرنے کے خیال سے مجھ پر
کیوں اتنا اعتبار کرتی ہو Umer Farooqi
اپنی نگاہوں پر مجھے سوار کرتی ہو
مجھے ملنے کی خاطر تیرا ڈوبتے جانا
میرا کیوں اتنا انتظار کرتی ہو
وہ رات گئے تک میری باتیں سوچے جانا
ہر وقت کیوں دل کو بے قرار کرتی ہو
مجھ پر ذرا آنچ آنے سے تیرا ڈوبتے جانا
کیوں جان کو مجھ پر نثار کرتی ہو
محبت میں میری عمر گزار دینا
اس طرح کے وعدے کیوں ہر بار کرتی ہو
حاصل کرنے کے خیال سے مجھ پر
کیوں اتنا اعتبار کرتی ہو Umer Farooqi
ہے دل بھی بڑا بے وفا صابر ہے دل بھی بڑا بے وفا صابر
ساتھ اس کے ہو گیا روانہ کرنوں کی طرح
معصومیت ان کے گردوں نواں میں بھر پور ہے مگر
قربان ہو گئے محبت کے مسافروں کی طرح
کثرت سے یادیں اس کی گردش ایام ہیں
اپنی زندگی کے گزرے ہوئے سالوں کی طرح
آنسو بھی اپنے نہیں اب پرائے ہو گئے ہیں
برستے ہیں ان کی خاطر طوفانوں کی طرح
جیتا ہے عمر بس خیال سے اس کے
کبھی تو ملے گا وہ مجھے اپنوں کی طرح Umer Farooqi
ساتھ اس کے ہو گیا روانہ کرنوں کی طرح
معصومیت ان کے گردوں نواں میں بھر پور ہے مگر
قربان ہو گئے محبت کے مسافروں کی طرح
کثرت سے یادیں اس کی گردش ایام ہیں
اپنی زندگی کے گزرے ہوئے سالوں کی طرح
آنسو بھی اپنے نہیں اب پرائے ہو گئے ہیں
برستے ہیں ان کی خاطر طوفانوں کی طرح
جیتا ہے عمر بس خیال سے اس کے
کبھی تو ملے گا وہ مجھے اپنوں کی طرح Umer Farooqi
تیری یاد آرہی تھی کچھ دنوں سے میرے ذہن میں ایک بات آرہی تھی
میں سوچ رہا تھا اس کو وہ یاد آرہی تھی
اس کی تصویر میرے تصور میں بن چکی ہے
جس سے ملنے کی دل سے فریاد آرہی تھی
اٹھتا یوں بیٹھتا ہوں سوچتا ہوں اس کو ہر پل
ہر بار اسی بات کی مجھے داد آرہی تھی
اس شبنمی چہرے پر مجھے ناز ہے عمر
میرے دل تجھ کو مبارکباد آرہی تھی
ساگر میں ڈوب جاؤں تیری نظر سے ہو کے
اس لمحے بھی خود کو بھول کر تیری یاد آرہی تھی Umer Farooqi
میں سوچ رہا تھا اس کو وہ یاد آرہی تھی
اس کی تصویر میرے تصور میں بن چکی ہے
جس سے ملنے کی دل سے فریاد آرہی تھی
اٹھتا یوں بیٹھتا ہوں سوچتا ہوں اس کو ہر پل
ہر بار اسی بات کی مجھے داد آرہی تھی
اس شبنمی چہرے پر مجھے ناز ہے عمر
میرے دل تجھ کو مبارکباد آرہی تھی
ساگر میں ڈوب جاؤں تیری نظر سے ہو کے
اس لمحے بھی خود کو بھول کر تیری یاد آرہی تھی Umer Farooqi
یہ بات ہے دن چار کی یہ بات ہے دن چار کی
ایک عاشق ایک غم خوار کی
وہ نہ سمجھے ہمارے محبت
کمی نہ تھی اعتبار کی
یاد اس کو ہر پل کرنا
یہ عادت پے پیار کی
ساون آئے تو بہتے آنسو
یہ رونق ہے دلدار کی
کرتی محبت وہ مجھ سے اگر
یہ بات تھی وقار کی
بھول بھی جاؤں تو کیسے بھولوں
عادت ہے اب انکار کی
بہار آئی پھول کھلے
ہجرمیں خوشبو بیکار کی
عمر بھی اب ڈھلتی جائے
محبت کے اقرار کی Umer Farooqi
ایک عاشق ایک غم خوار کی
وہ نہ سمجھے ہمارے محبت
کمی نہ تھی اعتبار کی
یاد اس کو ہر پل کرنا
یہ عادت پے پیار کی
ساون آئے تو بہتے آنسو
یہ رونق ہے دلدار کی
کرتی محبت وہ مجھ سے اگر
یہ بات تھی وقار کی
بھول بھی جاؤں تو کیسے بھولوں
عادت ہے اب انکار کی
بہار آئی پھول کھلے
ہجرمیں خوشبو بیکار کی
عمر بھی اب ڈھلتی جائے
محبت کے اقرار کی Umer Farooqi
جب غموں کی بارش ٹوٹ پڑے جب غموں کی بارش ٹوٹ پڑے
پھر بہار جل نہ آوے ہے
پھیلا ہے چار سو اندھیرا ہی اندھیرا
کوئی روشنی کا پیمانہ نہ چلاوے ہے
سب چھوڑ گئے سمندر کے طوفاں میں
کناروں پہ اب کوئی بھی بلاوے ہے
نہیں سنتا کوئی میرے دکھوں کے فسانے کو
سب اپنا اپنا دکھڑا سناوے ہے
ہر بار گرتا ہے عمر نشیب و فراز میں
کوئی مجھ کو نہ اس دلدل سے اٹھاوے ہے Umer Farooqi
پھر بہار جل نہ آوے ہے
پھیلا ہے چار سو اندھیرا ہی اندھیرا
کوئی روشنی کا پیمانہ نہ چلاوے ہے
سب چھوڑ گئے سمندر کے طوفاں میں
کناروں پہ اب کوئی بھی بلاوے ہے
نہیں سنتا کوئی میرے دکھوں کے فسانے کو
سب اپنا اپنا دکھڑا سناوے ہے
ہر بار گرتا ہے عمر نشیب و فراز میں
کوئی مجھ کو نہ اس دلدل سے اٹھاوے ہے Umer Farooqi
جب کبھی محبت پہ افسانے لکھتے ہیں جب کبھی محبت پہ افسانے لکھتے ہیں
بس تیری یاد کو ساتھ لیے چلتے ہیں
گزرتا ہے دل پہ تیرا انداز روٹھ جانا
پھر آنکھوں سے میرے آنسو بہنے لگتے ہیں
ڈوبتا ہوں جب بھی یادوں کے سمندر میں
پھر آوارہ اجنبی راستوں پہ چلنے لگتے ہیں
ستانے آجائیں گزرے ہوئے لمحے جب بھی
تنہائی کے خوف ناک اندھیروں سے ڈرنے لگتے ہیں
تو کسی اور کی ہو جائے تو غم نہیں
ہم پھر بھی تیرا نام دل پہ لکھے رکھتے ہیں
وہ شام جو کبھی تیرے نام ہوا کرتی تھی
اب ہر شام تیری یاد میں دئیے جلائے رکھتے ہیں Umer Farooqi
بس تیری یاد کو ساتھ لیے چلتے ہیں
گزرتا ہے دل پہ تیرا انداز روٹھ جانا
پھر آنکھوں سے میرے آنسو بہنے لگتے ہیں
ڈوبتا ہوں جب بھی یادوں کے سمندر میں
پھر آوارہ اجنبی راستوں پہ چلنے لگتے ہیں
ستانے آجائیں گزرے ہوئے لمحے جب بھی
تنہائی کے خوف ناک اندھیروں سے ڈرنے لگتے ہیں
تو کسی اور کی ہو جائے تو غم نہیں
ہم پھر بھی تیرا نام دل پہ لکھے رکھتے ہیں
وہ شام جو کبھی تیرے نام ہوا کرتی تھی
اب ہر شام تیری یاد میں دئیے جلائے رکھتے ہیں Umer Farooqi