تیری یاد آرہی تھی
Poet: Umer Farooqi By: Umer Farooqi, Rawalpindi.کچھ دنوں سے میرے ذہن میں ایک بات آرہی تھی
میں سوچ رہا تھا اس کو وہ یاد آرہی تھی
اس کی تصویر میرے تصور میں بن چکی ہے
جس سے ملنے کی دل سے فریاد آرہی تھی
اٹھتا یوں بیٹھتا ہوں سوچتا ہوں اس کو ہر پل
ہر بار اسی بات کی مجھے داد آرہی تھی
اس شبنمی چہرے پر مجھے ناز ہے عمر
میرے دل تجھ کو مبارکباد آرہی تھی
ساگر میں ڈوب جاؤں تیری نظر سے ہو کے
اس لمحے بھی خود کو بھول کر تیری یاد آرہی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






