جب تک نہیں جاتا وہ میری حدود قلب سے
Poet: Umer Farooqi By: Umer Farooqi, Rawalpindiجب تک نہیں جاتا وہ میری حدود قلب سے
تب تک میں اس کی محبت کا قرض دار رہوں گا
کر جاتا ہے شکوہ وہ مجھ پر انجانے میں
محفل میں، میں جب بھی کسی اور سے ملوں گا
وہ تو بسا ہے میرے تخیل کے گردوں نواں میں
کس طرح میں اسے اپنی یادوں سے نکال سکوں گا
تنہائی تو سایہ ہے میرا، یہی کہنا تھا کہ بس
وہ روٹھ جائیں گے، میں کیسے منا پاؤں گا
وہ شخص میری زندگی میں درد داغ لگا گیا
روز حشر میں اپنے غموں کا اسے حقدار کہوں گا
بھلا کر بھی نہ بھلا سکا میں اس کو خدارا
بعد مرنے کے میں اپنے شعروں میں یہی کہتا بھروں گا
گزار بیٹھا میں عمر دکھوں کے جھرمٹ میں
لحد میں جانے کے بعد بھی نہ اُسے بھول سکوں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






