آتشِ دل بُجھا نہ سکا

Poet: Junaid Atari By: Sag-e-Attar Junaid Atari, chakwal

آتشِ دل بُجھا نہ سکا
یہ بھی اُس کو بتا نہ سکا

یُوں اچانک اُسے دیکھ کر
ہاتھ تک بھی ہلا نہ سکا

وہ حجاب و حیا کا وجود
اک نظر بھی اٹھا نہ سکا

میں تو خُوں تھوکتا رہ گیا
وہ پلٹ کر بلا نہ سکا

اُس سے کیا ہوا عہد بھی
آج تک میں نبھا نہ سکا

کس قدر ناز تھا حسن پر
یہ بھی تُجھ کو بچا نہ سکا

اس زمانے میں کھویا مگر
دل کہیں بھی لگا نہ سکا

فاصلے بیچ کےجانِ جاں
چاہ کر بھی مٹا نہ سکا

اور جُدائی کا دن آج تک
بُھول کر بھی بُھلا نہ سکا

خواب دیکھا محل کا مگر
جھونپڑی تک بنا نہ سکا

کوششوں سے ابھی تک جُنید
اِک دیا بھی جلا نہ سکا

Rate it:
Views: 427
03 Apr, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL