آتے جاتے ہیں اب تو سب ہی غیر اس میں

Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

آتے جاتے ہیں اَب تو سب ہی غَیر اس میں
دِل کو تجھے بازار تو بِلکل بھی نہیں کرنا چاہئے تھا

چند لمحوں کے لئے اُس پہ یَقیں آ بھی گیا تھا
پر مجھے یوں خود کو دھوکا نہیں کرنا چاہئے تھا

چاہت کے سفر میں تو نے حدِ عَداوت کی
اَیسے ظالِم کو تو پیارا نہیں کرنا چاہئے تھا

میں نے روکا تھا مگر دِل نہ رُکا، اُس نے کہا بھی
عِشق کو اِتنا طَلَب گار نہیں کرنا چاہئے تھا

لوگوں کے تَبصروں میں خود کو رُسوا کیا میں نے
اَپنی تَقدیر کا اِظہار نہیں کرنا چاہئے تھا

یاد آتی ہے تو دِل پھر سے خطا کرتا ہے ناحَق
اَیسے نادَم کو پُکارا نہیں کرنا چاہئے تھا

اَب پَشیمان ہوں، ہر بات پہ آتی ہے خَلَش سی
یوں کسی نام پہ رسوا نہیں کرنا چاہئے تھا

میں ہی غم خوار تھا، میں ہی تماشا بن گیا آخر
اپنے ہی دِل کو تماشا نہیں کرنا چاہئے تھا

مظہرؔ دِل کے اِرادوں کا یہ اَنجام تو دیکھا
دِل کو تجھے بازار تو بِلکل بھی نہیں کرنا چاہئے تھا

Rate it:
Views: 36
05 Dec, 2025
More Sad Poetry