آج میں کس مقام پر کھڑی ہوں

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), K.S.A

آج میں کس مقام پر کھڑی ہوں
جہاں پر میرے ساتھ کوئی اپنا نہیں

آنکھیں بند کر لوں یا کھلی رکھوں
جبکہ ان آنکھوں میں بچا کوئی سپنا نہیں

کیوں ویرانیاں بار بار مجھے گھیر لیتی ہیں
شاید محفلوں کا میرے بن مشکل کوئی جینا نہیں

یوں تو پی لیا ہر رنگ کا پانی
بناء غم کے تو ساقی پینا کوئی پینا نہیں

کہاں لے آئے آج آنکھ کے آنسو مجھے
راستے میں دریا ہے پر پاس کوئی سفینا نہیں

جلانے کو ُاسے میرا ہی گھر ملا تھا شاید
شمع کے رونے پر مگر آیا کوئی پروانا نہیں

میں روتی جا رہی ہوں اس کے سامنے مگر
مجھے روکنے کوکیا ُاس کے پاس کوئی بہانا نہیں
 

Rate it:
Views: 485
14 May, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL