آج پھر اک شہر میں کچھ بے گناہ مارے گئے

Poet: Khalid Mahmood By: Khalid Mahmood, Abha

آج پھر اک شہر میں کچھ بے گناہ مارے گئے
پھر لکھا جائے گا قاتل نا معلوم افراد تھے

آج پھر اک بہن کے سر سے ردا چھینی گئی
آج پھر بکھرے ہوئے کچھ تتلیوں کے پر ملے

آج پھر کچھ مہرباں دیکھے گئے ہیں باغ میں
آج پھر کچھ پھول مسلے جائیں گے پاؤں تلے

آج پھر جشنِ آزادی پہ جلے لاکھوں چراغ
آج پھر اپنوں کے ہاتھوں سے بہت سے گھر جلے

آج پھر خالد تمہارے دیس میں آندھی چلی
آج پھر کچھ راہنما کچھ راہنماؤں سے ملے

Rate it:
Views: 469
18 Apr, 2011
More Political Poetry