آج کل
Poet: Faheem Ur Rehman By: Faheem Ur Rehman, Surjani Town, 4B, Karachiکچھ پریشان سا رہتا ہوں آج کل
کچھ غم ہیں جنکو سہتا ہوں آج کل
سچ بھی اگر میں بولوں سب جھوٹ سمجھتے ہیں
لگتا ہے میں بھی کوئی نیتا ہوں آج کل
کنگال اس قدر ہوں جیبیں ہیں میری خالی
فقیروں کو دعائیں دیتا ہوں آج کل
اﷲ کی رحمت سے کبھی مایوس مت ہونا
یہ بات اپنے دل سے کہتا ہوں آج کل
مقدر میں جو ہوگا وہ مل ہی جائے گا
میں انتظار میں بیٹھا ہوں آج کل
جاب چل رہی ہے پڑھائی کے ساتھ ساتھ
ماں باپ کا کمائو بیٹا ہوں آج کل
حالات کا فہیم یہ اچھا اثر ہوا
ہر پل خدا کا نام لیتا ہوں آج کل
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







