آپ سے کیا جدا ہوا ہوں میں
Poet: Farrukh Izhar By: Farrukh Izhar, Karachiآپ سے کیا جدا ہوا ہوں میں
اک اذیت میں مبتلا ہوں میں
راہ یہ کس طرف کو جاتی ہے
بے خطر جس پہ چل پڑا ہوں میں
ہے وہ عالم کہ حال بھی اپنا
اب تو اوروں سے پوچھتا ہوں میں
اس نے اک بار تھا چھوا مجھ کو
اور اب تک مہک رہا ہوں میں
آپ یہ سوچ بھی نہیں سکتے
آپ کو کتنا سوچتا ہوں میں
اتنا میں خود کو جانتا بھی نہیں
جس قدر تم کو جانتا ہوں
اپنے اندر نہ ڈھونڈیے مجھ کو
اپنے اندر چھپا ہوا ہوں میں
سچ تو یہ ہے کہ مصلحت کے سبب
جھوٹ بھی خوب بولتا ہوں میں
اب تو مجھ کو گلے لگا لیجیے
سارے شکوے بھلا چکا ہوں میں
کون ہے مجھ سے کھو گیا تھا جو
کون ہے کس کو ڈھونڈتا ہوں میں
سچ بتاؤں تو میری جاں تجھ کو
جان سے بڑھ کے چاہتا ہوں میں
اک فقط تیری یاد ہے دل میں
ورنہ سب کچھ گنوا چکا ہوں میں
آج تم یاد کیوں نہیں آئے
آج تم سے بہت خفا ہوں میں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






