آدھی نیند کا سپنا
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIاپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
جس پر تیرا نام لکھا ہے اُس تارے کو ڈھونڈوں گا
تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا
میں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا
ہجر کے دریا میں تم پڑھنا لہروں کی تحریریں بھی
پانی کی ہر سطر پہ میں کچھ دل کی باتیں لکھوں گا
جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
تم بھی اُس کو چھو کے گزرنا‘ میں بھی اُس سے لپٹوں گا
”خواب مسافر لمحوں کے ہیں‘ ساتھ کہاں تک جائیں گے“
تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے‘ میں بھی اب کچھ سوچوں گا
بادل اوڑھ کے گزروں گا میں تیرے گھر کے آنگن سے
قوسِِ قزح کے سب رنگوں میں تجھ کو بھیگا دیکھوں گا
رات گئے جب چاند ستارے لُکن میٹی کھیلیں گے
آدھی نیند کا سپنا بن کر میں بھی تم کو چھو لوں گا
بے موسم بارش کی صورت‘ دیر تلک اور دُور تلک
تیرے دیارِ حسن پہ میں بھی کِن مِن کِن مِن برسوں گا
شرم سے دوہرا ہو جائے گا کان پڑا وہ بُندا بھی
بادِ صبا کے لہجے میں اِک بات میں ایسی پوچھوں گا
صفحہ صفحہ ایک کتابِ حسن سی کھلتی جائے گی
اور اُسی کو لَو میں پھر میں تم کو اَزبر کر لوں گا
وقت کے اِک کنکر نے جس کو عکسوں میں تقسیم کیا
آبِ رواں میں کیسے امجد اب وہ چہرا جوڑوں گا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






