آزاد کر دو اب تم اپنی محبت سے
Poet: hira By: hira, gojraآزاد کر دو اب تم اپنی محبت سے
درد کے اس پنچھی کا دم گھٹنے لگا ہے
تھکن سے اس کے پر ٹوٹ رہے ہیں
بے نشاں رستوں پہ یہ بھٹکنے لگا ہے
بے سمت ہواؤں میں اڑا نہیں جاتا
ہوا کے تھپیڑوں سے گرنے لگا ہے
تمام ٹولیاں شام ہوتے ہی اڑ گئیں
اداس راہوں میں تنہا بکھرنے کگا ہے
پیاس ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے
سانس بھی اب اٹکنے لگا ہے
بہت راتوں سے جاگا ہوا ہے یہ
منزل کو ڈھونڈتے اونگھنے لگا ہے
آنسو تاروں کی مانند ٹوٹ رہیے ہیں
یہ بادل بھی کرب سے گرجنے لگا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






